خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 14
14 $2004 خطبات مسرور نہ ٹھہرا دینا اور میرے ساتھ مہربانی اور رحم کا سلوک فرمانا۔اے وہ جو سب سے بڑھ کر التجاؤں کو قبول کرتا اور سب سے بہتر عطا فرمانے والا ہے میری دعا قبول کر لینا۔(مجمع الزوائد هیثمی مطبوعه بیروت جلد نمبر ٣ صفحه ٢٥٢) تو اندازہ کریں کہ ان عاجزانہ دعاؤں کا۔کیا ہم اس سے کم عاجزانہ دعائیں مانگ کر اللہ تعالیٰ کی بخشش کے طالب ہو سکتے ہیں۔ہمیں تو بہت بڑھ کر اپنی عاجزی کا اظہار کرنا چاہئے۔اصل میں تو یہ وہ طریقے ہیں یا اسلوب ہیں جو آنحضرت ﷺ نے دعا کر کے ہمیں سکھائے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم بھی اس اسوہ حسنہ پر چل کر اسی طرح عاجزی اور انکساری اختیار کرنے والے ہوں۔پھر حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ میری مدد کر میرے خلاف کسی کی مدد نہ کرنا اور میری نصرت کرا اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ کرنا ، اور میرے حق میں تدبیر کر مگر میرے خلاف تدبیر نہ کرنا اور مجھے ہدایت دے اور ہدایت کو میرے لئے آسان بنا دے اور مجھ پر زیادتی کرنے والے کے خلاف میری مدد کراے اللہ مجھے اپنا بہت شکر کرنے والا کثرت سے ذکر کرنے والا اور بہت زیادہ ڈرنے والا بنا دے مجھے اپنا بے حد مطیع اپنی طرف انکساری کے سرتسلیم خم کرنے والا بہت نرم دل اور سچے دل سے جھکنے والا بنا دے اے اللہ میری توبہ قبول کر اور میرے گناہوں کو دھو ڈال میری دعا قبول کر اور میری دلیل کو مضبوط بنادے اور میری زبان کو بہتری بخش اور میرے دل کو ہدایت عطا کر اور میرے سینے کے کینے کو دور کر دے۔(ترمذى كتاب الدعوات باب في دعاء النبي وہ جو داعیان الی اللہ ہیں وہ بھی جب جائیں تو اس دعا کے ساتھ ان کو باہر نکلنا چاہئے۔پھر فرمایا کہ اے اللہ میں تجھ سے ایسے دل سے پناہ مانگتا ہوں جس میں عاجزی اور انکساری نہیں اور ایسی دعا سے پناہ مانگتا ہوں جو مقبول نہ ہو اور ایسے نفس سے جو بھی سیر نہ ہو۔اور ایسے علم سے جو کوئی فائدہ نہ دے میں ان چاروں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔( ترمذى كتاب الدعوات باب ماجاء في جامع الدعوات عن رسول الله صل الله تو یہ عاجزی اور انکساری کے وہ چند نمونے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہمیں نظر عليسة