خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 184
184 $2004 خطبات مسرور تھے، پس تم میں سے ہر ایک اس بات کو خوب یادر کھے کہ قرضوں کے ادا کرنے میں سستی نہیں کرنی چاہئے اور ہر قسم کی خیانت اور بے ایمانی سے دور بھاگنا چاہئے کیونکہ یہ امرالہی کے خلاف ہے۔(ملفوظات جلد ٤ صفحه ٦٠٧ ـ الحكم ٢٤ جنورى ١٩٠٦) ایک حدیث ہے، حضرت زحیر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، انصاف کرنے والے خدائے رحمن کے داہنے ہاتھ نور کے منبروں پر ہوں گے۔( اللہ تعالیٰ کے تو دونوں ہاتھ ہی داہنے شمار ہوں گے )۔تو یہ لوگ اپنے فیصلے اور اپنے اہل وعیال میں اور جس کے بھی وہ نگران بنائے جاتے ہیں عدل کرتے ہیں۔(مسلم کتاب الامارة باب فضيلة الامير العادل وعقوبة۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں میں اب گھر کی مثال لیتا ہوں ، ہر شادی شدہ مرد اپنے اہل وعیال کا نگران ہے، اس کا فرض ہے کہ ان کی ضروریات کا خیال رکھے، مرد قوام بنایا گیا ہے، گھر کے اخراجات پورے کرنا، بچوں کی تعلیم کا خیال رکھنا ، ان کی تمام تعلیمی ضروریات اور اخراجات پورے کرنا، یہ سب مرد کی ذمہ داری ہے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جماعت میں بھی بعض مرد ایسے ہیں جو گھر کے اخراجات مہیا کرنے تو ایک طرف ، الٹا بیویوں سے اپنے لئے مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے خرچ پورے کرو، حالانکہ بیوی کی کمائی پر ان کا کوئی حق نہیں ہے۔اگر بیوی بعض اخراجات پورے کر دیتی ہے تو یہ اس کا مردوں پر احسان ہے۔تو مردوں کو اس حدیث کے مطابق ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے حصہ پانا ہے، اللہ تعالیٰ کے نور کے حقدار بننا ہے تو انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔بچوں کی تربیت کا حق ادا کرنا ہوگا، ان میں دلچسپی لینی ہوگی، ان کو معاشرے کا ایک قابل قدر حصہ بنانا ہو گا۔اگر نہیں تو پھر ظلم کر رہے ہو گے۔انصاف والی تو کوئی چیز تمہارے اندر نہیں۔بعض لوگ یہاں انگلستان، جرمنی اور یورپ کے بعض ملکوں میں بیٹھے ہوتے ہیں، معاشرے میں، دوستوں میں بلکہ جماعت کے عہدیداروں کی نظر میں بھی بظاہر بڑے مخلص اور نیک