خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 181 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 181

$2004 181 خطبات مسرور مکہ والوں کے بھی آدمی آ گئے کہ اس طرح یہ ہمارے دو آدمی مار کے آگئے ہیں اور حرم کے اندر مارے ہیں تو جو لوگ پہلے حرم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم کرتے رہے ، ان کو جواب تو یہ ملنا چاہئے تھا کہ تم بھی تو یہی کچھ کرتے رہے ہو لیکن آپ نے فوراً کیا کارروائی کی؟ آپ نے فرمایا کہ تمہارے ساتھ بے انصافی ہوئی ہے۔ممکن ہے وہ لوگ اس خیال سے حرم میں چلے گئے ہوں کہ وہ محفوظ ہیں اور انہوں نے اپنے بچاؤ کی پوری کوشش نہ کی ہو، انہوں نے جنگ میں تھوڑی سی کمی دکھائی ہو، اس پر آپ نے ان دونوں کا خون بہا (جس کا عربوں میں دستور تھا ) ان دو مقتولین کے ورثاء کے حوالے کیا۔(دیباچه تفسیر القرآن صفحه (٢٥٠،٢٤٩ حضرت خلیفہ اول فرماتے ہیں كُونُوا قَوْمِيْنَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ کہ تمہاری گواہیاں اللہ تعالیٰ کے لئے عدل کے ساتھ ہوں پھر اس کی تشریح که ﴿ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا کسی کی دشمنی انصاف کے مانع نہ ہو۔مثال دیتے ہیں مثلاً بعض غیر آریہ لوگ اس زمانے میں تھے تمہیں دفتروں سے نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، اسلام کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ تم ان کے مقابلے میں بھی ایسی کوشش کرو، جہاں تمہیں اختیار ہو تم ان کے خلاف کارروائی کرو نہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے۔فرمایا اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا علاج یہ بتایا ہے کہ تم یہ یقین رکھو کہ تمہارے کاموں کو دیکھنے والا اور ان سے خبر رکھنے والا بھی کوئی ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان ۱۵ اگست ۱۹۰۹ء بحواله حقائق الفرقان جلد ۲ صفحه ٨٥)۔اس طرح تم تقوے پہ قائم ہو جاؤ گے، تمہیں یقین ہوگا کہ تمہیں دیکھنے والا، تمہارے کاموں سے باخبر کوئی ہے تو پھر یہ اعلیٰ معیار عدل و انصاف کے قائم ہوسکیں گے۔پھر بعض لوگوں کو عادت ہے کہ بعض کا روباری لوگ جو بعض دفعہ بہت ہوشیار چالاک بنتے ہیں کم تجربہ والے کو ساتھ ملا کر کاروبار کرتے ہیں۔بعض بیچاروں کے پاس پیسہ تو آ جاتا ہے ایسے سیدھے ہوتے ہیں کہ جو ان چالاک اور ہوشیار آدمیوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں اور ان سے کاروبار کا ایسا معاہدہ کر لیتے ہیں جو آخر کار سراسر نقصان پر منتج ہوتا ہے۔اور سارا سرمایہ بھی ان لوگوں