خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 176
خطبات مسرور $2004 176 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا كُوْنُوْا قَوْمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِيْنَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيْرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوْا الْهَوَى أَنْ تَعْدِلُوا وَإِنْ تَلْوا اَوْتَعْرِضُوا فَإِنَّ اللهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيرًا (النساء : ١٣٦ ) اس کا ترجمہ ہے اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر گواہ بنتے ہوئے انصاف کو مضبوطی سے قائم کرنے والے بن جاؤ خواہ خود اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔خواہ کوئی امیر ہو یا غریب دونوں کا اللہ ہی بہترین نگہبان ہے۔پس اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو مبادا عدل سے گریز کرو۔اور اگر تم نے گول مول بات کی یا پہلو تہی کر گئے تو یقینا اللہ جو تم کرتے ہو اس سے بہت باخبر ہے۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو قرآن کریم میں جن اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ اقدار کو اپنانے کی طرف توجہ دلائی ہے، ان میں سے ایک انصاف اور عدل ہے۔جس پر عمل کرنا ، جس پر قائم ہونا اور جس کو چلانا مومنوں پر فرض ہے۔جیسا کہ اس آیت میں فرمایا کہ جو مرضی حالات ہو جائیں جیسے بھی حالات ہو جائیں تم نے انصاف اور امن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔اور ہمیشہ سچ کا ساتھ دینا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود کے زمانے میں ایک دفعہ عیسائیوں نے یہ اعتراض کیا کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اور آیتوں کے علاوہ اس آیت کو بھی پیش فرمایا کہ اس کے بعد تم کس منہ سے یہ دعویٰ کر