خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 162
$2004 162 خطبات مسرور وہ ہر مومن سے سچائی کا عہد لے چکا ہے۔اللہ تعالیٰ یہ ہر ایک سے عہد لے چکا ہے کہ میں سچ بولوں گا اور جو شخص اس عہد کے بعد کسی انسان سے کسی جائز امر کا اقرار کرتا ہے وہ اس عہد کے ساتھ گویا خدا تعالیٰ سے بھی ایک عہد باندھتا ہے اور خدا تعالیٰ اس عہد کا ضامن ہو جاتا ہے لیکن جو عہد کسی نا پاک امر یا کسی ظلم کے متعلق ہو اس کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ گناہ ہے۔اللہ تعالیٰ اس عہد کا ضامن نہیں کیونکہ وہ گناہ اور ناپاکی کے لئے ضامن نہیں ہوتا۔غرض اللہ تعالیٰ کے ضامن ہونے سے اس طرف اشارہ نہیں کیا کہ جن عہدوں پر قسم کھا ؤ صرف انہیں پورا کرو بلکہ اس مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سب وہ عہد جو عدل ، احسان اور ایتائے ذی القربی کے مطابق ہوں انہیں پورا کرو اور وہ عہد جن میں فحشا، منکر اور بغی کا رنگ پایا جاتا ہوا نہیں پورا نہ کرو ان کے بارے میں تم سے کوئی سوال نہ ہوگا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کا ضامن نہیں بلکہ ان سے منع کرتا ہے تو مذکورہ بالا حکم میں ان لوگوں کے لئے ہدایت ہے جو اگر کسی نا جائز امر پر قسم کھا لیتے ہیں تو عہد کی پابندی کے نام سے اس پر مصر رہتے ہیں۔(تفسیر کبیر جلد چهارم صفحه (۲۲۸ جیسے کہہ دیتے ہیں کہ فلاں سے ہماری بول چال اس لئے بند ہے یا قطع تعلقی اس لئے کی ہوئی ہے کہ فلاں وقت اس نے مجھے تکلیف پہنچائی تھی اور باوجود کوشش کے ہماری صلح نہیں ہوئی اور یہ نہیں ہوا اور وہ نہیں ہوا، شکوے اور شکایتیں ہوتی ہیں تو اب میں نے بھی یہ عہد کر لیا ہے کہ میں اس سے کبھی بات نہیں کروں گا۔تو یہ غلط قسمیں ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے حکم تو یہ ہے کہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے قطع تعلقی نہ کرو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ اسلامی اخلاق میں یہ داخل ہے اگر وعید کے طور پر کوئی عہد کیا جائے تو اس کا توڑ ناحسن اخلاق میں داخل ہے مثلاً اگر کوئی اپنے خدمت گار کی نسبت قسم کھائے کہ میں اس کو ضرور پچاس جوتے ماروں گا تو اس کی تو بہ اور