خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 11

$2004 11 مسرور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرماتے ہیں کہ اگر خدا کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کے دلوں کے پاس تلاش کرو۔اسی لئے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔اسی طرح چاہئے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو ہنسی نہ کریں اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے پاس جو آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے یا تمہارا خاندان کیا ہے بلکہ سوال یہ ہوگا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔اسی طرح پیغمبر خدا نے اپنی بیٹی کو فرمایا کہ اے فاطمہ ! خدا تعالیٰ ذات کو نہیں پوچھے گا اگر تم کوئی برا کام کرو گی تو خدا تعالیٰ تم سے اس واسطے درگذر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ ۳۷ الحکم ۷ار جولائی ۱۹۰۳ء) پھر دیکھیں آج کل اگر کسی کو کوئی عہدہ مل جائے یا مالی حالت کچھ بہتر ہو جائے تو زمین پر پاؤں نہیں سکتے۔اپنے آپ کو کوئی بالا مخلوق سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ماتحتوں سے یا غریب رشتہ داروں سے اس طرح بات کرتے ہیں جیسے کوئی انتہائی کم درجہ کے لوگ ہوں۔لیکن اسوہ رسول دیکھیں کیا ہے۔ابو مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور کے پاس ایک شخص آیا آپ اس سے گفتگو فرما رہے تھے تو اسی دوران میں اس پر آپ کا رعب اور ہیبت طاری ہوگئی اور اس وجہ سے اس کو کپکپی طاری ہو گئی کا پنپنے لگ گیا وہ تو آپ اسے فرمانے لگے۔کہ دیکھو اطمینان اور حوصلہ رکھو، گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے میں کوئی جابر بادشاہ تھوڑا ہی ہوں میں تو ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی۔(ابن ماجه کتاب الاطعمه باب القديد) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : مومن کی یہ شرط ہے کہ اس میں تکبر نہ ہو بلکہ انکسار، عاجزی، فروتنی اس میں پائی جائے اور یہ خدا تعالیٰ کے ماموروں کا خاصہ ہے ان میں حد درجہ کی فروتنی اور انکسار ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ میں یہ وصف تھا۔آپ کے ایک خادم سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ آپ کا کیا معاملہ ہے۔اس نے کہا سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے زیادہ وہ میری خدمت کرتے ہیں۔اللهم صل عـلـى