خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 153 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 153

$2004 153 خطبات مسرور جانتے ہیں وہ جوانی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوست اور ہم مکتب تھے یعنی اکٹھے پڑھا کرتے تھے اور حضور کی پہلی تصنیف ”براہین احمدیہ پر انہوں نے بڑا شاندار ریو یو بھی لکھا تھا اور یہاں تک لکھا تھا کہ گزشتہ تیرہ سو سال میں اسلام کی تائید میں کوئی کتاب اس شان کی نہیں لکھی گئی۔مگر مسیح موعود کے دعوئی پر یہی مولوی صاحب مخالف ہو گئے اور مخالف بھی ایسے کہ انتہا کو پہنچ گئے اور حضرت مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگایا اور دجال وغیرہ کہا ( نعوذ باللہ ) اس طرح سارے ملک میں مخالفت کی آگ بھڑکائی۔ڈاکٹر مارٹن کلارک کے اقدام قتل والے مقدمے میں بھی مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب عیسائیوں کی طرف سے گواہ کے طور پر پیش ہوئے۔اس وقت حضرت مسیح موعود کے وکیل مولوی فضل دین صاحب جو ایک غیر احمدی بزرگ تھے ، مولوی محمد حسین کی شہادت کو کمزور کرنے کے لئے ان کے حسب و نسب کے بارے میں بعض طعن آمیز سوالات کرنے لگے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں روک دیا کہ میں آپ کو ایسے سوالات کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور یہ کہتے ہوئے آپ نے جلدی سے اپنا ہا تھ مولوی فضل دین صاحب کے منہ پر رکھا کہ کہیں ان کی زبان سے کوئی ایسا فقرہ نکل نہ جائے۔تو اس طرح آپ اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر اپنے جانی دشمن کی عزت و آبرو کی حفاظت فرمایا کرتے تھے اور یہاں بھی فرمائی۔اس کے بعد مولوی فضل دین صاحب موصوف ہمیشہ یہ واقعہ حیرت سے ذکر کیا کرتے تھے کہ مرزا صاحب عجیب اخلاق کے انسان ہیں کہ ایک شخص ان کی عزت بلکہ جان پر حملہ کرتا ہے۔اور اس کے جواب میں اس کی شہادت کو کمزور کرنے کے لئے اس پر بعض سوالات کئے جاتے ہیں تو آپ فورا روک دیتے ہیں کہ میں ایسے سوالات کی اجازت نہیں دیتا۔(سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے۔رضی الله عنه صفحه ٥٣ تا ٥٥) حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وَ الْكَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ۔وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِین یعنی مومن وہی ہیں جو غصہ کو کھا جاتے ہیں اور یا وہ گو ظالم طبع لوگوں کو معاف