خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 148
$2004 148 خطبات مسرور نے پہلے تو اعراض فرمایا مگر حضرت عثمان کی اس بار بار کی درخواست پر کہ میں اسے امان دے چکا ہوں حضور نے بھی اسے معاف فرما دیا اور اس کی بیعت قبول فرمالی۔بیعت کی قبولیت کے بعد عبداللہ اپنے جرائم کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنے سے کتراتا تھا مگر جب معاف کر دیا تو پھر دیکھیں کیا رویہ ہے۔آپ نے اسے نہایت محبت سے پیغام بھجوایا کہ اسلام قبول کرنا اس سے پہلے کے گناہ معاف کر دیتا ہے اس لئے تم شرمندہ ہو کے گھبراؤ نہ، چھو نہیں۔(السيرة الحلبيه جلد ۳ صفحه ١٠٤،١٠٢ - بيروت) پھر ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ نے اسلام کے خلاف جنگوں کے دوران کفار قریش کو اکسانے اور بھڑ کانے کا فریضہ خوب ادا کیا تھا۔وہ ابھارنے کے لئے اشعار پڑھتی تھی۔مردوں کو انگیخت کیا کرتی تھی کہ اگر فتح مند ہو کے لوٹو گے تو تمہارا استقبال کریں گے ورنہ نہیں ہمیشہ کی جدائی اختیار کر لیں گی۔(السيرة النبيوية لابن هشام جلد ۳ صفحه ۳۹ - دار المعرفة بيروت جنگ احد میں اسی ہند نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ کی نعش کا مثلہ کیا ، اس نے ان کے ناک، کان اور دیگر اعضاء کاٹ کر لاش کا حلیہ بگاڑ دیا اور ان کا کلیجہ نکال کر چبا لیا۔فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی بیعت لے رہے تھے تو یہ ہند بھی نقاب اوڑھ کر آگئی، کیونکہ اس کے جرائم کی وجہ سے اسے واجب القتل قرار دیا گیا تھا۔بیعت کے دوران اس نے بعض شرائط بیعت کے بارے میں استفسار کیا۔نبی کریم پہچان گئے کہ ایسی دیدہ دلیری ہند کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتی تو آپ نے پوچھا کیا تم ابوسفیان کی بیوی ہند ہو؟ اس نے کہا ہاں یا رسول اللہ ! اب تو میں دل سے مسلمان ہو چکی ہوں جو پہلے گزر چکا آپ اس سے درگز رفرما ئیں اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک فرمائے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہند کو بھی معاف فرما دیا اور ہند پر آپ کے عفو کرم کا ایسا اثر ہوا کہ اس کی کایا ہی پلٹ گئی۔واپس گھر جا کر اس نے تمام بت تو ڑ دیئے۔اسی شام جب اس نے بیعت کی ہند نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ضیافت کا