خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 129 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 129

$2004 129 خطبات مسرور چاہئیں۔بلکہ بعض تو با قاعدہ اپنی بیٹیوں کو کو سنے بھی دیتے رہتے ہیں اور بعض بچیاں تو اتنی تنگ آجاتی ہیں رکھتی ہیں کہ لگتا ہے کہ ہم ماں باپ پر بوجھ بن گئے ہیں، ہمیں تو اب اپنی موت کی خواہش ہونے لگ گئی ہے۔تو ایسے ماں باپ کو جو بیٹیوں سے اس قسم کا سلوک کرتے ہیں خوف کرنا چاہئے۔ان کو تو اس بات پر خوش ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بچیاں دے کر ان کے لئے آگ سے بچنے کے لئے انتظام کر دیا ہے۔حدیث میں آتا ہے حضرت عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ جسے زیادہ بیٹیوں سے آزمایا گیا اور اس نے ان پر صبر کیا تو اس کی بیٹیاں اس کے لئے آگ سے پردے یا ڈھال کا باعث ہوں گی۔(ترمذی کتاب البر والصلة باب ما جاء في النفقة على البنات والأخوات) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ایک یتیم یا دو یتیموں کو پناہ دی اور پھر اس پر ثواب کی نیت سے صبر کیا تو آپ ﷺ نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ میں اور وہ جنت میں اس طرح ساتھ ہوں گے جس طرح شہادت کی انگلی اور ساتھ والی انگلی ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔(المجمع الاوسط جلد ۸ صفحه ۲۲۷) تو یتیموں کی پرورش کرنا اور ان کو حو صلے اور ہمت سے اپنے گھروں میں رکھنا اور اپنے بچوں کی طرح ان سے سلوک کرنا، یہ بڑی نیکی کا کام ہے اور اس حدیث میں ایسا کام کرنے والوں کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے جو یتیموں کو پالتے ہیں کیونکہ پیار اور محبت سے کسی کے بچے کو پالنا اور پھر اس کی سب باتوں کو حو صلے اور صبر سے برداشت کرنا اور ان کی تربیت کرنا اور اپنی کمائی میں۔حو صلے اور ہمت سے خرچ کرنا اپنی بعض خواہشات پر صبر کرتے ہوئے ان کو دبانا اور یتیم بچوں کے اخراجات پورے کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے یہ بہت بڑی نیکی ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بہت بڑی خوشخبری فرمائی ہے۔