خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 127 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 127

$2004 127 خطبات مسرور ہوتی ہے۔تو بہر حال ہر انسان کو اگر مدد ہو بھی رہی ہو تو کام کرنا چاہئے ، اپنی ذمہ داری خود اٹھانی چاہئے اس لئے جس قسم کا بھی کام ملتا ہو کرنا چاہئے اور ہر ایک کو اپنے پاؤں پر ہر ایک کو کھڑا ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔فرمایا کہ اگر تم سوال کرنے کی عادت جاری رکھو گے تو پھر اللہ تعالیٰ محتاجی میں بھی اضافہ کرتا چلا جائے گا اور اس وجہ سے پھر گھر سے برکت بھی اٹھ جاتی ہے۔چنانچہ دیکھ لیں ایسے گھروں میں میاں بیوی کی لڑائیاں بھی ہو رہی ہوتی ہیں۔بچے الگ پریشان ہو رہے ہوتے ہیں، نفسیاتی مریض بن رہے ہوتے ہیں۔اس بات کو کوئی معمولی بات نہ سمجھیں۔عزت اور وقاراسی میں ہے کہ خود محنت کر کے کمایا جائے۔اور امدادوں یا وظیفوں کو کبھی مستقل آمدنی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کو ہمیشہ مد نظر رکھیں کہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ فرائض کی طرح محنت کی کمائی بھی فرض ہے۔آپ نے فرمایا کہ جہاں اللہ تعالیٰ کے اور بہت سے فرائض ہیں ان میں یہ بھی فرض ہے کہ محنت کر کے کماؤ اور کھاؤ۔میں نے دیکھا ہے کہ جن کو اپنی عزت نفس کا خیال ہو مانگنے سے گھبراتے ہیں۔یہ مجھے پاکستان کا تجربہ ہے۔ایسے خاندان بھی میری نظر سے گزرے ہیں جن کے وسائل اتنے بھی نہیں تھے کہ پورا مہینہ کھانا کھا سکیں تو بعض دن ایسے بھی آ جاتے تھے کہ لنگر خانے سے آکے سوکھے ٹکڑے لے جاتے تھے اور ان کو پانی میں بھگو کر کھاتے رہے۔لیکن کبھی ہاتھ نہیں پھیلایا۔گو بعد میں پتہ لگ گیا اور ان کی مدد کی گئی اور ضرورت پوری کی گئی لیکن انہوں نے خود کبھی ہاتھ نہیں پھیلایا ، ایسے سفید پوش بھی ہوتے ہیں۔لیکن بعض ایسے ہیں کہ اچھی بھلی آمدنی ہو جس سے بہت اچھا نہ سہی لیکن غریبانہ گزارا چل رہا ہوتا ہے پھر بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں وظیفہ دیا جائے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایسے گھروں سے اللہ تعالیٰ برکت اٹھا لیتا ہے۔اگر ہمت ہو اور نیک نیتی ہو تو بہت معمولی رقم قرضہ حسنہ کے طور پر لے کر بھی کام کیا جا سکتا ہے۔میں نے بعض لوگوں کو اس طرح