خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 126 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 126

$2004 126 خطبات مسرور الجوار )۔تو یہاں بھی صبر کی وجہ سے ہی معاملہ حل ہو گیا۔حضرت کبشہ انماری سے مروی ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تین چیزوں کے بارے میں میں قسم کھا کے بتا تا ہوں کہ انہیں اچھی طرح یاد رکھو، صدقہ بندے کے مال میں سے کچھ بھی کمی نہیں کرتا۔جب بندے پر ظلم کیا جائے اور وہ صبر سے کام لے تو اللہ تعالیٰ اسے اور عزت بخشتا ہے۔پہلی بات یہ کہ صدقہ دو کیونکہ صدقے سے مال میں کمی نہیں ہوتی بلکہ اضافہ ہوتا ہے اور جب کسی پر ظلم کیا جائے اور وہ صبر سے کام لے تو اللہ تعالیٰ اسے عزت بخشتا ہے اور تیسری بات یہ کہ جس نے سوال کرنے کا دروازہ کھولا اللہ تعالیٰ اس کے لئے فقر اور محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔(ترمذی کتاب الزهد باب مثل الدنيا مثلُ اربعة نَفَرِ) زیادہ مانگنے والے ہوں تو ان کی محتاجی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ایک تو خودان میں بیٹھے رہنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔پھر خواہشات بھی بڑھتی رہتی ہیں۔تو اس میں ایک تو صبر کرنے والے کے لئے خوشخبری ہے کہ صبر سے کام لو اگر تنگ بھی کئے جاؤ تو اپنے خدا کی رضا کی خاطر صبر کرو اور جب اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر صبر کرو گے تو اللہ تعالیٰ جو دینے سے کبھی نہیں تھکتاوہ تمہیں نہ صرف اس مشکل اور تکلیف سے نکالے گا بلکہ صبر کی وجہ سے تمہیں عزت بھی دے گا۔پھر ایک اہم بات یہ یہاں بیان فرمائی کہ مانگنے کی عادت اپنے اندر کبھی نہ پیدا کرو۔جیسے مرضی حالات ہوں صبر شکر کے ساتھ گزارا کرو اور اسی طرح گزارا کرنے کی کوشش کرو کیونکہ اگر ایک دفعہ مانگنے کی عادت پڑ گئی تو پھر یہ بڑھتی چلی جائے گی۔قناعت پھر بالکل ختم ہو جاتی ہے۔تن آسانی کی بھی عادت پڑ جاتی ہے، پتہ ہے کہ کھانے کو مل رہا ہے، کسی قسم کا کام کرنے کو دل نہیں چاہتا، اور صرف اس لئے کہ میری ساری ضروریات پوری ہو رہی ہیں مدد کے ذریعے سے تو ایسے نکے مرد بیٹھے رہتے ہیں اور بیوی بچوں کی بھی کوئی فکر نہیں ہوتی۔اگر جماعتی وسائل کے مطابق محدود پیمانے پر ضروریات پوری ہورہی ہوں تو بیوی بچوں کی بہت سی ایسی ضروریات بھی ہیں جو ان وسائل کے ساتھ پوری نہیں ہوسکتیں، ایک محدود مدد