خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 125
125 $2004 خطبات مسرور ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے قضاء میں مقدمے بھی چل رہے ہوتے ہیں۔جو میں باتیں کر رہا ہوں یہ عملاً ایسا ہوتا ہے۔شرم آتی ہے ایسی باتیں سن کر اور یہ باتیں پاکستان اور ہندوستان وغیرہ میں نہیں ہوتیں بلکہ اس طرح ہر جگہ ہو رہا ہے، یہاں بھی ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے بعض دفعہ لڑائی جھگڑے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ہمسائے کو کچھ تعمیر نہیں کرنے دے رہے ہوتے حالانکہ دوسرے ہمسائے کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ذراذراسی بات پہ شکایتیں ہورہی ہوتی ہیں۔تو احمدی کا یہ فرض ہے کہ اگر کوئی ایسی حرکت کرتا بھی ہے تو اس کو معاف کرنا چاہئے۔اور غصے پر قابورکھنا چاہئے اور صبر کرنا چاہئے۔کیونکہ خدا کو یہی پسند ہے۔حضرت حسن روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں بہنے والا قطرہ خون اور رات کے وقت تہجد میں خشیت باری تعالیٰ کے نتیجے میں آنکھ سے ٹیکنے والے قطرے سے زیادہ کوئی قطرہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔اور نہ ہی اللہ کو کوئی گھونٹ غم کے اس گھونٹ سے زیادہ پسند ہے جو انسان صبر کر کے پیتا ہے اور اسی طرح اللہ کو غصے کے گھونٹ سے زیادہ کوئی گھونٹ پسند نہیں جو غصہ دبانے کے نتیجہ میں وہ پیتا ہے۔(مصنف ابن ابی شیبة جلد ۷ صفحه ۸۸) پھر ایک روایت حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ ایک شخص پڑوسی کی شکایت لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آنحضور نے اس کو فرمایا کہ جا اور صبر کر۔پیشخص دو یا تین بار حضور کی خدمت میں شکایت لے کر آیا تو پھر آنحضرت ﷺ نے اس کو فرمایا کہ جا اور اپنا مال ومتاع باہر رکھ دے یعنی اپنے گھر کا سامان سڑک پہ لے آ۔چنانچہ اس نے اپنا مال راستے میں رکھ دیا۔اس پر لوگوں نے اس کے بارے میں پوچھا کہ تم اس طرح کیوں کر رہے ہو تو ان کو بتا تا رہا کہ کس وجہ سے کر رہا ہوں۔تب لوگوں نے اس ہمسائے پر لعنت ملامت کی اور کہنے لگے اللہ اس سے یوں کرے یوں کرے وغیرہ وغیرہ۔اس پر اس کا ہمسایہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا تو اپنے گھر میں واپس چلا جا۔اب تو مجھ سے کوئی نا پسندیدہ بات نہیں دیکھے گا۔(ابو داؤد کتاب الادب باب حق