خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 117 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 117

مسرور 117 $2004 اب چندہ عام وغیرہ بھی اسی زمرے میں شامل ہوتے ہیں۔کیونکہ یہ بھی ایک وعدہ ہے جو آپ نے کیا ہوتا ہے۔پھر چندہ وصیت ہے۔بعض موصی ہیں جو لمبے عرصہ تک چندہ ادا نہیں کرتے اور بقایا دار ہو جاتے ہیں اور وصیت منسوخ ہو جاتی ہے۔پھر یہ شکوہ ہوتا ہے کہ دفتر نے کیوں یاد نہیں کروایا، ہماری وصیت منسوخ ہو گئی۔حالانکہ دفتر تو یاد کرواتا ہے۔اور اگر نہیں بھی یاد کروایا تو معاہدہ کا دوسرا فریق تو خود ہے اس کو بھی تو یا درکھنا چاہئے کہ اس نے کیا عہد کیا ہوا ہے۔اب یہاں جون میں جماعت کا مالی سال ختم ہورہا ہے تو میں یہاں یاد کروا دیتا ہوں کہ جو بھی آپ کے چندے ہیں، ادائیگیاں ہیں، وعدے ہیں، پورے کر لیں۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطاب کرتے ہوئے ہمیشہ فرمایا کرتے تھے: "لَا إِيْمَانَ لِمَنْ لَّا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِيْنَ لِمَنْ لَّا عَهْدَلَه “ یعنی جو شخص امانت کا لحاظ نہیں رکھتا اس کا ایمان کوئی ایمان نہیں اور جو عہد کا پاس نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔( مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحه ۱۳۵ مطبوعہ بیروت) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :۔”خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے چنانچہ لِبَاسُ التقوى قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے یعنی اُن کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تابمقدور کار بند ہو جائے“۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۱۰) یعنی امانتوں کا خیال رکھے اور ان کے باریک در باریک پہلوؤں میں جا کر ان کو ادا کرنے کی کوشش کرے۔پھر آپ فرماتے ہیں: