خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 100
$2004 100 خطبات مسرور ہیں، جاکے ویڈیو کیسٹ لے آئیں یا سیڈیز لے آئیں، اور پھر انتہائی بیہودہ اور لچر قسم کی فلمیں اور ڈرامے ان میں ہوتے ہیں۔جماعتی نظام کو بھی اور ذیلی تنظیموں کو بھی اس بارہ میں نظر رکھنی چاہئے اور اس کے نتائج سے لوگوں کو ، بچوں کو آگاہ کرتے رہنا چاہئے ،سمجھانا چاہئے۔کیونکہ اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ یہ چیزیں بالآخر غلط راستوں پر لے جاتی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : خدائے تعالیٰ نے خلق احصان یعنی عفت کے حاصل کرنے کیلئے صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں فرمائی بلکہ انسان کو پاک دامن رہنے کیلئے پانچ علاج بھی بتلا دیئے ہیں۔یعنی یہ کہ اپنی آنکھوں کو نامحرم پر نظر ڈالنے سے بچانا ، کانوں کو نامحرموں کی آواز سننے سے بچانا، نامحرموں کے قصے نہ سننا، اور ایسی تمام تقریبوں سے جن میں اس بد فعل کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو اپنے تئیں بچانا۔اگر نکاح نہ ہو تو روزہ رکھنا وغیرہ۔اس جگہ ہم بڑے دعوئی کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ اعلیٰ تعلیم ان سب تدبیروں کے ساتھ جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہیں صرف اسلام ہی سے خاص ہے اور اس جگہ ایک نکتہ یادر کھنے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ چونکہ انسان کی وہ طبعی حالت جو شہوات کا منبع ہے جس سے انسان بغیر کسی کامل تغیر کے الگ نہیں ہوسکتا یہی ہے کہ اس کے جذبات شہوت محل اور موقع پا کر جوش مارنے سے رہ نہیں سکتے۔یا یوں کہو کہ سخت خطرہ میں پڑ جاتے ہیں۔اس لئے خدائے تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی کہ ہم نامحرم عورتوں کو بلا تکلف دیکھ تو لیا کریں اور ان کی تمام زمینوں پر نظر ڈال لیں۔اور ان کے تمام انداز ناچنا وغیرہ مشاہدہ کر لیں لیکن پاک نظر سے دیکھیں اور نہ یہ تعلیم ہمیں دی ہے کہ ہم ان بیگا نہ جوان عورتوں کا گانا بجاناسن لیں اور ان کے حسن کے قصے بھی سنا کریں لیکن پاک خیال سے سنیں بلکہ ہمیں تاکید ہے کہ ہم نامحرم عورتوں کو اور ان کی زینت کی جگہ کو ہرگز نہ دیکھیں۔نہ پاک نظر سے اور نہ نا پاک نظر سے۔اور ان کی خوش الحانی کی آوازیں اور ان کے حسن کے قصے نہ سنیں۔نہ پاک خیال