خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 99 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 99

99 $2004 خطبات مسرور کہ کیا ان کی تعلیم ہے اور کیا ان کے عمل ہیں۔تو باوجود دشمنی کے ابوسفیان نے اور بہت ساری باتوں کے علاوہ یہی جواب دیا کہ وہ پاکدامنی کی تعلیم دیتے ہیں۔تو ھرقل نے اس کو جواب دیا کہ یہی ایک نبی کی صفت ہے۔پھر محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے درج ذیل امور کی وصیت کی پھر ایک لمبی روایت بیان کی جس میں سے ایک وصیت یہ ہے۔کہ عفت ( یعنی پاکدامنی ) اور سچائی ، زنا اور کذب بیانی کے مقابلہ میں بہتر اور باقی رہنی والی ہے۔(سنن دار قطنی ، کتاب الوصایا، باب ما يستحب بالوصية من التشهد والكلام ) تو پاکدامنی ایسی چیز ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہے اور جس میں ہو اس کا طرہ امتیاز ہوگی اور ہمیشہ ہر انگلی اس پر اس کی نیکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اٹھے گی۔سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ایمانداروں کو جو مرد ہیں کہہ دے کہ آنکھوں کو نامحرم عورتوں کے دیکھنے سے بچائے رکھیں اور ایسی عورتوں کو کھلے طور سے نہ دیکھیں جو شہوت کا محل ہوسکتی ہیں“۔(اب اس میں ایسی عورتیں بھی ہیں جو پردہ میں نہیں ہوتیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو عورت پردے میں نہیں ہے اس کو دیکھنے کی اجازت ہے بلکہ ان کو بھی دیکھنے سے بچیں)۔اور ایسے موقعوں پر خوابیدہ نگاہ کی عادت پکڑیں اور اپنے ستر کی جگہ کو جس طرح ممکن ہو بچاویں۔ایسا ہی کانوں کو نامحرموں سے بچاویں یعنی بریگا نہ عورتوں کے گانے بجانے اور خوش الحانی کی آوازیں نہ سنے، ان کے حسن کے قصے نہ سنے۔یہ طریق پاک نظر اور پاک دل رہنے کے لئے عمدہ طریق ہے۔رپورٹ جلسه اعظم مذاهب صفحه ۱۰۰ ـ بحواله تفسیر حضرت موعود عليه السلام جلد سوم صفحه ٤٤٠) اب تو گانے وغیرہ سے بڑھ کر بیہودہ فلموں تک نوبت آگئی ہے۔اس بارے میں عورتوں اور مردوں دونوں کو یکساں احتیاط کی ضرورت ہے، دونوں کو احتیاط کرنی چاہئے۔دکانیں کھلی ہوئی