خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 97 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 97

97 $2004 خطبات مسرور تو یہ فرما دیا عورت کو کہ تمہیں باہر نکلنے کی اجازت اس صورت میں ہے کہ پردہ کر کے باہر نکلو۔اور جو ظاہری نظر آنے والی چیزیں ہیں، خود ظاہر ہونے والی ہیں ان کے علاوہ زینت ظاہر نہ کرو۔اور دوسری طرف مردوں کو یہ کہہ دیا کہ اپنی نظریں نیچی رکھو، بازار میں بیٹھو تو نظر نیچی رکھو اور اگر پڑ جائے تو فوراً نظر ہٹالو تا کہ نیک معاشرے کا قیام عمل میں آتا رہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ فضل (بن عباس ) رسول اللہ کے پیچھے سوار تھے تو خثعم قبیلہ کی ایک عورت آئی۔فضل اسے دیکھنے لگ پڑے اور وہ فضل کو دیکھنے لگ گئی۔تو اس پر نبی کریم ﷺ نے فضل کا چہرہ دوسری طرف موڑ دیا۔(بخاری کتاب الحج باب وجوب الحج وفضله حضرت ابو امامہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی مسلمان کی کسی عورت کی خوبصورتی پر نگاہ پڑتی ہے اور وہ بغض بصر کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے ایسی عبادت کی توفیق دیتا ہے جس کی حلاوت وہ محسوس کرتا ہے۔(مسند احمد مسند باقی الانصار باب حديث أبي أمامة الباهلي الصدى بن عجلان) تو دیکھیں نظریں اس لئے نیچی کرنا کہ شیطان اس پر کہیں قبضہ نہ کر لے، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کو نیکیوں کی توفیق دیتا ہے اور عبادات کی توفیق دیتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اسلام نے جو یہ حکم دیا ہے کہ مرد عورت سے اور عورت مرد سے پردہ کرے اس سے غرض یہ ہے کہ نفس انسانی پھیلنے اور ٹھوکر کھانے کی حد سے بچار ہے۔کیونکہ ابتداء میں اس کی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ بدیوں کی طرف جھکا پڑتا ہے اور ذراسی بھی تحریک ہو تو بدی پر ایسے گرتا ہے جیسے کئی دنوں کا بھوکا آدمی کسی لذیذ کھانے پر۔یہ انسان کا فرض ہے کہ اس کی اصلاح کرنے۔۔۔یہ ہے ستر اسلامی پردہ کا اور میں نے خصوصیت سے اسے ان مسلمانوں کے لئے بیان کیا ہے جن کو اسلام کے