خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 96
خطبات مسرور 96 $2004 راستوں پر مجلسیں لگانے سے بچو۔صحابہ نے عرض کی، یا رسول اللہ ہمیں رستوں میں مجلسیں لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر رستے کا حق ادا کرو۔انہوں نے عرض کی کہ اس کا کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہر آنے جانے والے کے سلام کا جواب دو، غض بصر کرو، راستہ دریافت کرنے والے کی رہنمائی کرو، معروف باتوں کا حکم دو اور ناپسندیدہ باتوں سے روکو۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحه ۶ مطبوعہ بیروت) دیکھیں کس قدر تا کید ہے کہ اول تو اگر کام نہیں ہے تو کوئی بلا وجہ راستے میں نہ بیٹھے۔اور اگر مجبوری کی وجہ سے بیٹھنا ہی پڑے تو پھر راستے کا حق ادا کر و۔بلاوجہ نظر میں اٹھا کے نہ بیٹھے رہو بلکہ خفض بصر سے کام لو، اپنی نظروں کو نیچا رکھو، کیونکہ یہ نہیں کہ ایک دفعہ نظر پڑ گئی تو پھر ایک سرے سے دیکھنا شروع کیا اور دیکھتے ہی چلے گئے۔اُم المؤمنین حضرت اُم سلمہ بیان کرتی ہیں کہ میں آنحضرت ﷺ کے پاس تھی اور میمونہ بھی ساتھ تھیں تو ابن ام مکتوم آئے۔یہ پردہ کے حکم کے نزول سے بعد کی بات ہے تو آنحضرت نے فرمایا کہ اس سے پردہ کرو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ کیا وہ نابینا نہیں؟ نہ وہ ہمیں دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی پہچان سکتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم دونوں بھی اندھی ہو۔اور تم اس کو دیکھ نہیں رہیں۔(ترمذی کتاب الأدب عن رسول الله باب ما جاء في احتجاب النساء من الرجال) دیکھیں کس قدر پابندی ہے پردہ کی کہ غض بصر کا حکم مردوں کو تو ہے ،ساتھ ہی عورتوں کے لئے بھی ہے کہ تم نے کسی دوسرے مرد کو بلا وجہ نہیں دیکھنا۔حضرت جریر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اچانک نظر پڑ صلى الله جانے کے بارہ میں دریافت کیا۔حضور نے فرمایا اضرِقْ بَصَرَكَ اپنی نگاہ ہٹا لو۔(ابو داؤد كتاب النكاح باب في ما يؤمر به من غض البصر) تو دیکھیں اسلامی پردہ کی خوبیاں۔نظر پڑ جاتی ہے ٹھیک ہے، قدرتی بات ہے۔ایک طرف