خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 960
960 $2004 خطبات مسرور ہوں۔آپ اپنی جماعت سے کیا امیدرکھتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کے مطابق سب کو چلنے کی توفیق دے۔فرمایا کہ : ” میری جماعت میں سے ہر ایک فرد پر لازم ہوگا کہ۔۔تمہاری مجلسوں میں کوئی نا پا کی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا مشغلہ نہ ہو۔اور نیک دل، اور پاک طبع اور پاک خیال ہوکر زمین پر چلو اور یا درکھو کہ ہر ایک شر مقابلہ کے لائق نہیں۔اس لئے لازم ہے کہ اکثر اوقات عفو اور درگز ر کی عادت ڈالو اور صبر اور حلم سے کام لو اور کسی پر نا جائز طریق سے حملہ نہ کرو اور جذبات نفس کو دبائے رکھو۔پھر فرمایا کہ اگر کوئی جہالت سے پیش آوے تو سلام کہ کر ایسی مجلس سے جلد اٹھ جاؤ“۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ”خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بناوے کہ تم تمام دنیا کے لئے نیکی اور راستبازی کا نمونہ ٹھہرو۔سواپنے درمیان سے ایسے شخص کو جلد نکالو جو بدی اور شرارت اور فتنہ انگیزی اور بدنسی کا نمونہ ہے۔جو شخص ہماری جماعت میں غربت اور نیکی اور پر ہیز گاری اور علم اور نرم زبانی اور نیک مزاجی اور نیک چلنی کے ساتھ نہیں رہ سکتا وہ جلد ہم سے جدا ہو جائے۔کیونکہ ہمارا خدا نہیں چاہتا کہ ایسا شخص ہم میں رہے۔اور یقیناوہ بدبختی میں مرے گا کیونکہ اس نے نیک راہ کو اختیار نہ کیا۔سو تم ہوشیار ہو جاؤ اور واقعی نیک دل اور غریب مزاج اور راستباز بن جاؤ۔تم پنجوقتہ نماز اور اخلاقی حالت سے شناخت کئے جاؤ گے اور جس میں بدی کا بیج ہے وہ اس نصیحت پر قائم نہیں رہ سکے گا“۔(مجموعه اشتهارات جلد نمبر صفحه ۴۷، ۴۸) تو یہ جو مجھے نصیحتیں کرنے والے ہیں ان کو سوچنا چاہئے کہ وہ جماعت میں نہیں رہ سکتے۔جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے قائم رہے گی۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس تعلیم کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے اور ہمیشہ جماعت کے ساتھ چمٹارہ کر نظام جماعت کی اطاعت کر کے دوسروں کے حقوق کا خیال رکھ کر ان فضلوں کے وارث بنیں جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کیا ہے۔اللہ سب کو توفیق دے۔آمین