خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 926
926 $2004 خطبات مسرور ہوتی ہے۔اور کئی مثالیں ایسی ہیں کہ شادی کے بعد ایسے غریبوں کے حالات بہتر ہو گئے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔وہ علم رکھتا ہے کہ کس کے کیا حالات ہونے ہیں۔معاشرے کا یہ کام ہے کہ چاہے وہ بیوائیں ہوں ، چاہے وہ غریب لوگ ہوں ان کی شادیاں کروانے کی کوشش کرو۔اس طرح معاشرہ بہت سی قباحتوں سے پاک ہو جائے گا، محفوظ ہو جائے گا۔بیواؤں میں سے بھی اکثر جوایسی ہیں جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ شادی کرانے کی خواہش رکھتی ہوں ، ضرورت مند ہوں اور ان میں سے ایسی بھی بہت ساری تعداد ہوتی ہے جو خاوند کی وفات کے بعد معاشی مسائل سے دو چار ہو جاتی ہے۔معاشرے کے بعض مسائل ہیں جن سے دو چار ہوتی ہے تو ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کو کوئی ٹھکانہ ملے۔ان کو تحفظ ملے بجائے اس کے کہ وہ مستقل تکلیف اٹھاتی رہے۔اس لئے فرمایا کہ پاک معاشرہ کے لئے بھی اور ان کے ذاتی مسائل کے حل کے لئے بھی پوری کوشش کرو کہ ان کی شادیاں کروا دو۔تو یہ ہے حکم اللہ تعالیٰ کا جبکہ جیسا کہ میں نے کہا بعض معاشرے اس کو نا پسند کرتے ہیں۔اسلامی اور احمدی معاشرہ کہلاتے ہوئے بعض لوگ نا پسند کرتے ہیں۔تو ہر احمدی کو یہ یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مقابلے میں ہماری روایات یعنی وہ جھوٹی روایات جو دوسرے مذاہب یا غیر مسلموں کے بگڑے ہوئے مذہب کا حصہ بن کر ہمارے اندر جڑ پکڑ رہی ہیں، ہمارے اندر داخل ہو رہی ہیں ان کو نکالنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ تو بیوگان کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بیوہ ہونے کے بعد اگر کسی کا خاوند فوت ہو جائے تو اس کے بعد جو عدت کا عرصہ ہے، چار مہینے دس دن کا ، وہ پورا کر کے اگر تم اپنی مرضی سے کوئی رشتہ کرلواور شادی کر لو تو کوئی حرج نہیں ہے۔کوئی ضرورت نہیں ہے کسی سے فیصلہ لینے کی یا کسی بڑے سے پوچھنے کی۔لیکن شرط یہ ہے کہ معروف کے مطابق رشتے طے کرو۔معاشرے کو پتہ ہو کہ یہ شادی ہو رہی ہے تو پھر کوئی حرج نہیں۔تو بیواؤں کو تو اپنے متعلق اپنے مستقبل کے متعلق فیصلہ کرنے کا خود اختیار دے دیا گیا ہے یا اجازت ہے اور لوگوں کو یہ کہا ہے کہ تم بلا وجہ اس میں روکیں ڈالنے کی کوشش نہ کرو اور اپنے رشتوں کا حوالہ دینے کی کوشش نہ کرو۔اگر یہ بیواؤں کے رشتے جائز اور معروف طور پر