خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 902 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 902

$2004 902 خطبات مسرور موقع پر مسلمانوں کو حفاظت اسلام اور بقائے اسلام کے لئے توجہ دلاتی رہتی ہو۔باوجود اختلاف عقائد کے ہمارے دل پر اس جماعت کی خدمات کا گہرا اثر ہے۔اور آج سے نہیں جناب مرزا غلام احمد صاحب مرحوم کے زمانہ سے اس وقت تک ہم نے کبھی اس کے خلاف کوئی حرف زبان اور قلم سے نہیں نکالا۔“ (اخبار مشرق یکم ستمبر 1927ء بحواله جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات صفحه 57-58 بحواله تاریخ احمدیت جلد 4 صفحه (608 تو ہی تھی ان لوگوں کی شرافت لیکن آج کل کی شرافت گونگی ہے۔گھروں میں بیٹھ کے بات کر لیں گے باہر نکل کے نہیں کر سکتے۔تو یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور آپ کے لئے غیرت کی ایک مثال ہے جو اسی تعلیم کا نتیجہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دی ہے جو غیروں کو بھی نظر آ رہی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ صرف بات یہ ہے کہ اب اکثر سے شرافت اٹھ گئی ہے۔اگر شرافت ہو تو آج بھی جو خدمات اسلام اور جو کوشش آنحضرت ﷺ کی محبت دلوں میں پیدا کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کر رہی ہے اس کو سمجھتے ہوئے جماعت احمدیہ کی مخالفت کرنے کی بجائے ، احمدی پر ہتک رسول کا الزام لگانے کی بجائے ، ان خدمات کو سرا ہیں۔ان کی تعریف کریں۔بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری کی وہ مثال قائم کریں جس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ جب مسیح و مہدی کی آمد کی خبر سنو تو اس کو میرا سلام پہنچاؤ۔اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے اور اس قوم کو مولویوں کے چنگل سے نکالے جن کا کام ہی صرف فساد ہے اور خدا کرے کہ حقیقت کو سمجھنے والے بنیں اور حقیقت کے اظہار کی جرات ان میں پیدا ہو۔لیکن احمدی کا بھی یہ کام ہے کہ پہلے سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کی مثالیں قائم کرے اور آپ پر درود بھیجے۔عشق و محبت کی جو تعلیم اور جو مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام قائم کر گئے ہیں ان کا کوئی مقابلہ کرہی نہیں سکتا۔اور نہ ہی احمدی کے علاوہ اس کا کوئی اظہار کرسکتا ہے۔