خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 81 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 81

81 $2004 خطبات مسرور رشتہ دار ہیں جنہوں نے اس طرح وفا اور اطاعت کا اظہار کیا ہو گا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقی رشتہ داروں نے وفا کا اظہار نہیں کئے۔ہر ایک کا اپنا اپنا انداز ہوتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے ہر فرد نے بڑے اخلاص اور وفا سے خلافت کی بیعت کی ہے۔ان میں بہت سے مجھ سے عمر میں بھی بڑے ہیں، تجربے میں بھی بڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ تمام خاندان کو خلافت سے محبت اور وفا میں ہمیشہ بڑھاتا رہے اور آئندہ آنے والی ہر خلافت کے ساتھ بھی سب لوگ اطاعت کا نمونہ دکھا ئیں۔بہر حال یہاں ذکر میاں صاحب کا تھا۔اپنا انجام بخیر ہونے کے بارہ میں مجھے با قاعدہ لکھتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے۔آپ کی تدفین بھی موصی ہونے کی وجہ سے بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی ہے۔آپ ہمیشہ مجھے اپنی بیگم صاحبہ کے بارہ میں لکھا کرتے تھے کہ ان کے لئے دعا کریں کہ ان کو صحت دے۔ان کو اپنی صحت کی تکلیف کوئی نہ تھی۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا اپنا ایک طریق ہے۔یہ خیال نہیں تھا کہ پہلے خود چلے جائیں گے۔احباب ان کی بیگم صاحبہ کے لئے دعا کریں وہ دل کی مریضہ ہیں۔ان کی بیگم صاحبہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی بیٹی ہیں۔پھر ہمارے مبلغ جو زمبابوے کے مشنری انچارج تھے ان کی بھی کچھ عرصہ ہوا وفات ہوئی ہے۔یہ مکرم سمیع اللہ قمر صاحب ہیں آپ مکرم عطاء اللہ صاحب سابق اسسٹنٹ مینجر سندھ جینگ و پراسسنگ فیکٹری سندھ کے بیٹے تھے۔مئی ۱۹۷۷ میں ربوہ سے شاہد پاس کیا اور پھر قریباً دس سال تک پاکستان میں خدمات سرانجام دیں اور پھر قریباً ساڑھے تیرہ سال زیمبیا اور زمبابوے میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔زمبابوے کے امیر تھے۔بہت محنت اور اخلاص سے خدمات سرانجام دیتے رہے۔بہت محنت اور اخلاص اور بڑی جانفشانی سے خدمات سرنجام دیتے رہے۔اچانک آپ کو ہارٹ اٹیک ہوا اور آپ کی وفات ہوئی۔اس طرح غیر ملک میں وفات ہونے کی وجہ سے شہادت کا رتبہ بھی پایا۔پسماندگان میں بوڑھے والدین بھی زندہ ہیں، اہلیہ اور پانچ بیٹیاں یادگار چھوڑی ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بھی درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور بچیوں کا خود ہی کفیل ہو جائے۔۔مرحوم موصی تھے اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی ہے۔