خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 763 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 763

$2004 763 خطبات مسرور ہوں جس سے نہ صرف میری ہستی پر یقین آتا ہے بلکہ میرا قادر ہونا بھی بپایہ یقین تک پہنچتا ہے۔جب اللہ تعالی سنتا ہے تو جواب بھی دیتا ہے نہ صرف اپنی ہستی کا یقین دلواتا ہے بلکہ یہ بھی یقین دلاتا ہے کہ وہ سب قدرتوں کا مالک ہے۔لیکن شرط ہے کہ چاہئے کہ لوگ ایسی حالت تقویٰ اور خدا ترسی کی پیدا کریں کہ میں ان کی آواز سنوں۔اب یہ خدا ترسی اور تقویٰ کی حالت وہ اللہ تعالیٰ کو آواز سنوانے کے لئے پیدا کرنی ہو گی۔نیز چاہئے کہ وہ مجھ پر ایمان لاویں اور قبل اس کے جو ان کو معرفت تامہ ملے اس بات کا اقرار کریں کہ خدا موجود ہے اور تمام طاقتیں اور قدرتیں رکھتا ہے۔کیونکہ جو شخص ایمان لاتا ہے اس کو عرفان دیا جاتا ہے۔66 (ايام الصلح صفحه 31 بحواله تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام جلد اول صفحه (649) | تو فرمایا تقویٰ ہو، خدا ترسی ہو اور اللہ کے حقوق بھی ادا کر رہے ہو اور اللہ کے بندوں کے حقوق بھی ادا کر رہے ہو تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آواز سنوں گا۔پھر یہ کہ ایمان ہو۔میرے پہ ایسا ایمان ہو، یہ یقین ہو کہ خدا ہے اور خدا کی ذات کا یہ یقین پہلے دل میں ہونا چاہئے۔معرفت تامہ سے یعنی گہرائی میں جا کر تجربہ سے خدا تعالیٰ کی ہر صفت کی پہچان ہونے سے پہلے یہ یقین ہو کہ خدا ہے۔وہ جو آیا ہے کہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کہ غیب پر ایمان ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ غیب بھی خدا کا نام ہے۔تو فرمایا کہ ہر تجربہ سے پہلے یہ یقین ہو کہ خدا ہے اور وہ بے انتہا صفات کا حامل ہے، سب قدرتیں اور طاقتیں رکھتا ہے۔جب اس یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھو گے، اس کے آگے جھکو گے، اس سے دعائیں مانگو گے تو پھر تمہیں اللہ تعالیٰ کی مکمل پہچان ہوگی ، عرفان حاصل ہوگا، تجربہ ہوگا، قبولیت دعا کے نشانات دیکھو گے۔تو یہ چیزیں اور معیار ہیں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتائے اور جو آپ اپنی جماعت میں پیدا کرنا چاہتے تھے۔اس یقین کے ساتھ جب ہم دعائیں مانگیں گے تو یقینا اللہ تعالیٰ سنے گا۔یہ نہیں کہ منہ سے تو کہہ دیا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل یقین ہے اور ایمان ہے لیکن جو اس کے احکامات ہیں ان پر عمل نہ ہو۔نمازیں سال کے سال صرف رمضان میں پڑھنے کی کوشش کی جارہی ہو یا کی