خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 71 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 71

71 $2004 خطبات مسرور اور در حقیقت یہ ہم پر اتمام نعمت ہے۔اس کا شکریہ ہے کہ ہم عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں۔“ ایک دفعہ ایک دوست کی درشت مزاجی اور بد زبانی کا ذکر ہوا اور شکایت ہوئی کہ وہ اپنی بیوی سے سختی سے پیش آتا ہے۔حضور اس بات سے بہت کبیدہ خاطر ہوئے، بہت رنجیدہ ہوئے ، بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: ”ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہئے۔حضور بہت دیر تک معاشرت نسواں کے بارے میں گفتگو فرماتے رہے اور پھر آخر پر فرمایا: ”میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھا اور میں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے اور بائیں ہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ منہ سے نہیں نکلا تھا۔اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع و خضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الہی کا نتیجہ ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ ۳۰۷ الحکم ۷ ارجنوری ۱۹۰۰ء) تو یہ ہیں بیویوں سے حسن سلوک کے نمونے جو آج ہمیں اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عمل سے اپنے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی پیروی میں نظر آتے ہیں۔اور انہی پر چل کر ہم اپنے گھروں میں امن قائم کر سکتے ہیں۔رحمی رشتوں کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے، اس کی وضاحت تو پہلے ہو چکی ہے کہ یہ قریب ترین رشتے ہیں اور ان کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہئے۔اس بارہ میں ایک روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی۔کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: رحم، رحمن سے مشتق ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جس نے تجھ سے تعلق جوڑا میں اس سے تعلق جوڑوں گا اور جس نے تجھ سے تعلق توڑا میں اس سے قطع تعلقی اختیار کر لوں گا۔(بخاری کتاب الادب باب من وصل وصله الله) حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا یقینا اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا کیا یہاں تک کہ جب وہ اس کی تخلیق سے فارغ ہو گیا تو رحم نے کہا یہ قطع رحمی سے تیری