خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 70
$2004 70 خطبات مسرور ایک دن حضرت عائشہ گھر میں آنحضرت ﷺ سے کچھ تیز تیز بول رہی تھیں کہ اوپر سے ان کے ابا، حضرت ابوبکر تشریف لائے۔یہ حالت دیکھ کر ان سے رہا نہ گیا اور اپنی بیٹی کو مارنے کے لئے آگے بڑھے کہ تو خدا کے رسول کے آگے اس طرح بولتی ہو۔آنحضرت یہ دیکھتے ہی باپ اور بیٹی کے درمیان حائل ہو گئے اور حضرت ابو بکر کی متوقع سزا سے حضرت عائشہ کو بچالیا۔جب حضرت ابوبکر چلے گئے تو رسول کریم حضرت عائشہ سے از راہ مذاق فرمایا۔دیکھا آج ہم نے تمہیں تمہارے ابا سے کیسے بچایا ؟۔تو دیکھیں یہ کیسا اعلیٰ نمونہ ہے کہ نہ صرف خاموش رہ کر جھگڑے کوختم کرنے کی کوشش کی بلکہ حضرت ابوبکر جو حضرت عائشہ کے والد تھے ان کو بھی یہی کہا کہ عائشہ کو کچھ نہیں کہنا۔اور پھر فوراً حضرت عائشہ سے مذاق کر کے وقتی بوجھل پن کو بھی دور فرما دیا۔پھر آگے آتا ہے روایت میں کہ کچھ دنوں کے بعد حضرت ابو بکر دوبارہ تشریف لائے تو آنحضرت ﷺ کے ساتھ حضرت عائشہ ہنسی خوشی با تیں کر رہی تھیں۔حضرت ابوبکر کہنے لگے دیکھو بھئی تم نے اپنی لڑائی میں تو مجھے شریک کیا تھا اب خوشی میں بھی شریک کرلو۔(ابوداؤد کتاب الادب باب ماجاء في المزاح) آنحضرت یہ حضرت عائشہ کے بہت ناز اٹھاتے تھے۔ایک دفعہ ان سے فرمانے لگے کہ عائشہ میں تمہاری ناراضگی اور خوشی کو خوب پہچانتا ہوں۔حضرت عائشہ نے عرض کیا وہ کیسے؟ فرمایا جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو اپنی گفتگو میں رب محمد مہ کرفتم کھاتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو تو رب ابراہیم کہہ کر بات کرتی ہو۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ہاں یا رسول اللہ یہ تو ٹھیک ہے مگر بس میں صرف زبان سے ہی آپ کا نام چھوڑتی ہوں ( دل سے تو آپ کی محبت نہیں جاسکتی )۔(بخاری کتاب النکاح باب غيرة النساء و وجد هن ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : و فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں اور فرمایا ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ہم کو خدا نے مرد بنایا ہے