خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 692
خطبات مسرور 692 پڑھنے والے بھی بنیں اور اس پر عمل کرنے والے بھی بنیں۔$2004 حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو قرآن کریم کے ماتحت چلتے ہیں۔قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال " امر ہے۔(الحكم 31/ اکتوبر 1901ء) پس ہر احمدی کو اپنی کامیابیوں کو حاصل کرنے کے لئے یہ نسخہ آزمانا چاہئے۔دین بھی سنور جائے گا اور دنیاوی مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔آج دیکھ لیں مسلمانوں میں جولڑائی جھگڑے اور دنیا کے سامنے ذلت کی حالت ہے وہ اسی لئے ہے کہ نہ قرآن پڑھتے ہیں اور نہ اس پر عمل کرتے ہیں۔جو پڑھتے ہیں وہ عمل نہیں کرتے ، سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے تو ظاہر ہے پھر قرآن کو چھوڑنے کا یہی نتیجہ نکلنا تھا جو نکل رہا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”یا د رکھو قرآن کریم حقیقی برکات کا سر چشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے۔یہ ان لوگوں کی اپنی غلطی ہے جو قرآن کریم پر عمل نہیں کرتے عمل نہ کرنے والوں میں ایک گروہ تو وہ ہے جس کو اس پر اعتقادی نہیں۔اور وہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام ہی نہیں سمجھتے۔یہ لوگ تو بہت دور پڑے ہوئے ہیں۔لیکن وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور نجات کا شفا بخش نسخہ ہے، اگر وہ اس پر عمل نہ کریں تو کس قدر تعجب اور افسوس کی بات ہے۔ان میں سے بہت سے تو ایسے ہیں جنہوں نے ساری عمر میں بھی اسے پڑھا ہی نہیں۔پس ایسے آدمی جو خدا تعالیٰ کے کلام سے ایسے غافل اور لا پرواہ ہیں ان کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص کو معلوم ہے کہ فلاں چشمہ نہایت ہی مصفی اور شیریں اور منگ ہے اور اس کا پانی بہت سے امراض کے واسطے اکسیر اور شفا ہے۔یہ علم اس کو یقینی ہے لیکن باوجود اس علم کے اور با وجود پیاسا ہونے