خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 678
$2004 678 خطبات مسرور زیادہ تکلیف نہ پہنچے اس وقت تک ہنگامہ پردازی کو اچھا نہیں سمجھتے۔اور صلح کاری کے محل شناسی کا یہی اصول ہے کہ ادنی ادنی باتوں کو خیال میں نہ لاویں۔اور معاف فرماویں اور لغو کا لفظ جو اس آیت میں آیا ہے سو واضح ہو کہ عربی زبان میں لغو اس حرکت کو کہتے ہیں کہ مثلاً ایک شخص شرارت سے ایسی بکواس کرے یا بنیت ایذاء ایسا فعل اس سے صادر ہو یعنی اس نیت سے کہ کسی کو تکلیف پہنچانی ہے، ایسا کام کرے کہ دراصل اس سے کچھ ایسا حرج اور نقصان نہیں پہنچتا۔کہ ایسا فعل بے شک اس سے ہو جائے لیکن اس سے کچھ نقصان نہ پہنچتا ہو۔یا صرف باتیں کر رہا ہو تو اس کو بخش دینا چاہئے۔فرمایا: ” س صلح کاری کی یہ علامت ہے کہ ایسی بیہودہ ایذاء سے چشم پوشی فرماویں۔اگر اس طرح کی باتیں ہیں کہ کسی کو نقصان نہیں پہنچ رہا تو اس سے چشم پوشی کرنی چاہئے۔اس کو معاف کر دینا چاہئے اور بزرگانہ سیرت عمل میں لاویں۔اسلامی اصول کی فلاسفی - روحانی خزائن جلد 10 صفحه 348-349) پھر آپ نے فرمایا اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان ، کان ، آنکھ اور ہر ایک عضو میں تقویٰ سرایت کر جاوے۔تقویٰ کا نور اس کے اندر اور باہر ہو، اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو اور بے جا غصہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہوں۔میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصہ کا نقص اب تک موجود ہے۔تھوڑی تھوڑی سی بات پر کینہ اور بغض پیدا ہو جاتا ہے۔اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں۔ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا۔اور میں نہیں سمجھ سکتا اس میں کیا دقت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے اور دوسرا چپ رہے۔اور اس کا جواب نہ دے۔ہر ایک جماعت کی اصلاح اول اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔چاہئے کہ ابتداء میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے اور سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بدگوئی کرے تو اس کے لئے درد دل سے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دے دے۔اور دل میں کینہ کو ہرگز نہ بڑھاوے جیسے دنیا کے قانون ہیں ویسے خدا کا بھی قانون ہے۔جب دنیا اپنے قانون کو نہیں چھوڑتی تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو کیسے چھوڑے۔پس جب تک تبدیلی نہ ہوگی جب تک تمہاری قدر اس کے نزدیک کچھ نہیں،