خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 666 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 666

خطبات مسرور $2004 666 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وَانْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَ هُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى اَمْرِ اللَّهِ۔فَإِنْ فَآءَتْ فَأَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ، إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ﴾۔(سورة الحجرات آيات 10-11) آجکل اخبار روزانہ ہی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں کہ فلاں ملک میں یہ فساد ہورہا ہے اور فلاں ملک میں وہ فساد ہو رہا ہے۔لوگ آپس میں بھی لڑائیوں میں لگے ہوئے ہیں۔عدالتوں میں جاؤ تو یوں لگتا ہے جیسے سوائے لڑائی جھگڑوں کے اور مقدمے بازیوں کے لوگوں کو اور کوئی کام ہی نہیں ہے۔ہمارے ملک پاکستان میں اور تقریباً سارے برصغیر میں عام مشہور ہے کہ زمیندار کے پاس جب تھوڑے سے پیسے آجائیں یعنی کچھ فصل کی آمد ہو جائے، کیونکہ ویسے تو عموماً ہمارا زمیندار قرضوں کے بوجھ تلے ہی رہتا ہے بلکہ اکثر غریب ملکوں کے زمینداروں کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ وہ قرض لے کے پیدا ہوتا ہے اور قرضوں میں ہی زندگی گزارتا ہے اور قرض میں ہی مرتا ہے یعنی پچھلوں کے لئے بھی قرض چھوڑ کے جاتا ہے۔تو بہر حال میں یہ کہ رہا تھا کہ ہمارے دیہاتی طبقے ، چھوٹے زمینداروں بلکہ کسانوں میں