خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 649 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 649

$2004 649 خطبات مسرور کی وجہ سے نہیں دے سکتے ہمیں کوئی ایسا طریقہ بتا ئیں جس پر چل کر ہم اس کمی کو پورا کر سکیں۔آپ نے فرمایا تم ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللہ ، تینتیس دفعہ الْحَمْدُ لِلہ اور چونتیس دفعہ اللهُ اكبر کہ لیا کرو۔یہ صحابہ بڑے خوش کہ اب ہم بھی امراء کے برابر نیکیوں میں آجائیں گے۔انہوں نے اس طریق پر عمل شروع کر دیا مگر کچھ دنوں کے بعد امیروں کو ، اس طریقہ عبادت کا بھی پتہ لگ گیا۔اور انہوں نے بھی اسی طرح تسبیح و تحمید شروع کر دی۔یہ صحابہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور شکایت کی کہ ان امراء نے بھی یہ طریق شروع کر دیا ہے۔اور پھر ہمارے سے آگے نکل گئے ہیں۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو نیکی کی توفیق دے رہا ہے تو میں اس کو کس طرح روک سکتا ہوں۔تو دیکھیں اس تڑپ کے ساتھ صحابہ نیکیوں میں بڑھنے کے لئے نیکی کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ان میں بڑے بڑے کاروباری بھی تھے، بڑے پیسے والے بھی تھے لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم کہ نیکیوں میں سبقت لے جاؤ اس حکم پر اس طرح ٹوٹ کر عمل کرتے تھے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی نیکیوں کی کس طرح قدر کی ہے اور انفرادی اور جماعتی دونوں طرح سے انہیں خوب نوازا۔تو جیسا کہ اس حدیث میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کے تحت صحابہ امیر ہوں یا غریب نماز ، روزہ ، جہاد، صدقات ہر ایک نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔حقوق اللہ بھی ادا کرنے والے تھے اور حقوق العباد بھی ادا کرنے والے تھے۔اپنے مالوں کو بھی صدقہ و خیرات کر کے اللہ کی مخلوق کی خدمت کیا کرتے تھے۔تو یہ نیکیوں میں بڑھنا آج ہم احمدیوں کے لئے بھی ضروری ہے۔ہمیں اپنی نمازوں کو بھی قائم کرنا ہوگا، ان کو بھی سنوارنا ہوگا اور حقوق العباد بھی ادا کرنے ہوں گے۔