خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 642 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 642

$2004 642 خطبات مسرور السلام علیکم کہ کر خوشخبریاں دی ہیں۔اس وقت میں ایک رؤیا پیش کرتا ہوں۔آپ لکھتے ہیں کہ : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ اول گویا کوئی شخص مجھ کو کہتا ہے کہ میرا نام فتح وظفر ہے اور پھر یہ الفاظ زبان پر جاری ہوئے أَصَلَحَ اللهُ أَمْرِى كُلَّهُ یعنی اللہ تعالیٰ نے میرے سارے کام اپنے فضل سے ٹھیک کر دیئے۔پھر دیکھا کہ مکان شبیہ مسجد میں ہوں ( یعنی مسجد کی شکل کے مکان میں ہوں ) اور ایک الماری کے پاس کھڑا ہوں اور حامد علی بھی کھڑا ہے۔اتنے میں نظر پڑی میں نے عبداللہ غزنوی کو دیکھا کہ بیٹھے ہیں اور میرا بھائی غلام قادر بھی بیٹھا ہے تب میں نے نزدیک ہو کر ان کو السلام علیکم کہا تو انہوں نے بھی وعلیکم السلام کہا اور بہت سے دعائیہ کلمات ساتھ ملا دیئے جن میں صرف یہ لفظ محفوظ رہا یعنی ذہن میں یہی رہا کہ اَخَّرَكَ الله کہ اللہ تعالیٰ تیرے سارے کام ٹھیک بنادے۔انجام بخیر کرے۔مگر معنے یہی یا در ہے کہ ان کے کلمات ایسے ہی تھے کہ تیرا خدا مددگار ہو، تیری فتح ہو ، پھر میں اس مجلس میں بیٹھ گیا اور کہا کہ میں نے خواب بھی دیکھی ہے کسی کو میں نے السلام علیکم کہا ہے۔اس نے جواب ديا وَ عَلَيْكُمُ السَّلَامِ وَالظَّفر “۔(تذکره صفحه 249 مطبوعه 1969ء) پس ہر احمدی کا فرض بنتا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل اللہ تعالیٰ کے اس سلام کو حاصل کرنے والے بنیں۔یہ سلام حضرت اقدس کے ساتھ آپ کی جماعت کو بھی ہے۔آپ کا مقصد ایک پاک جماعت کا قیام تھا اور نیک انجام اس جماعت کے لئے بھی ہے جیسا کہ اس میں بتایا گیا ہے۔لیکن ہر فر د جماعت کو سلامتی پھیلا کر انفرادی طور پر بھی ان برکات سے حصہ لینا چاہئے تا کہ فتح وظفر کی جو خوشخبری اللہ تعالیٰ نے دی ہے اس کی برکات سے ہر ایک حصہ لے سکے۔اس لئے میں پھر کہتا ہوں کہ اس سلامتی کے پیغام کو دوسروں تک بھی پھیلائیں اور آپس میں بھی مومن بنتے ہوئے محبت اور پیار کی فضا پیدا کریں اور اللہ تعالیٰ کی ابدی جنتوں کے بھی وارث بنیں جہاں سلامتی ہی سلامتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین