خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 58 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 58

$2004 58 خطبات مسرور اُن کے حق میں دعا کرتے رہو اور صحت نیت کا خیال رکھو۔(الحكم جلد ٢ ، نمبر ١٦ - مورخه ۲ مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ٤ ـ بحواله تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام جلد۔سوم صفحه ٦١،٦٠) پھر فرمایا کہ اگر دین کی وجہ سے اختلاف پیدا ہو جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے حقوق ادا کر نے چھوڑ دو۔تمہارے جو فرائض ہیں وہ تم پورا کرو۔اور ان کے لئے دعا بھی کرتے رہو۔شاید کسی وقت تمہاری دعائیں سنی جائیں اور اللہ تعالیٰ ان کو بھی راہ ہدایت دکھا دے۔ان کو بھی اس کا پتہ چل جائے۔پھر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی والدہ کے بارہ میں ہے کہ وہ قادیان آئی ہوئی ہیں۔انہوں نے اپنی والدہ کی پیری اور ضعف کا اور ان کی خدمت کا جو وہ کرتے ہیں ذکر کیا یعنی بڑھاپے اور کمزوری کا تو حضرت نے فرمایا: والدین کی خدمت ایک بڑا بھاری عمل ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ دو آدمی بڑے بد قسمت ہیں۔ایک وہ جس نے رمضان پایا اور رمضان گزر گیا پر اس کے گناہ نہ بخشے گئے اور دوسرا وہ جس نے والدین کو پایا اور والدین گزر گئے اور اس کے گناہ نہ بخشے گئے۔والدین کے سایہ میں جب بچہ ہوتا ہے تو اس کے تمام ہم وغنم والدین اٹھاتے ہیں۔جب انسان خود دنیوی امور میں پڑتا ہے تب انسان کو والدین کی قدر معلوم ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدہ کو مقدم رکھا ہے، کیونکہ والدہ بچہ کے واسطے بہت دکھ اٹھاتی ہے۔کیسی ہی متعدی بیماری بچہ کو ہو۔چیچک ہو، ہیضہ ہو، طاعون ہو، ماں اس کو چھوڑ نہیں سکتی۔پھر حضرت اماں جان کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں : ”ہماری لڑکی کو ایک دفعہ ہیضہ ہو گیا تھا ہمارے گھر سے اس کی تمام قے وغیرہ اپنے ہاتھ پر لیتی تھیں۔ماں سب تکالیف میں بچہ کی شریک ہوتی ہے۔یہ طبعی محبت ہے۔جس کے ساتھ کوئی دوسری محبت مقابلہ نہیں کرسکتی۔خدا تعالیٰ نے اسی کی طرف قرآن شریف میں اشارہ کیا ہے کہ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ إِيْتَائِ