خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 587
587 $2004 خطبات مسرور پہلے فرمایا کہ باقی گناہوں کے نسبت بعض لغویات چھوڑنی بڑی آسان ہوتی ہیں ) پس خفیف تعلق چھوڑنے سے خفیف تعلق ہی ملتا ہے“۔( ضمیمه براهین احمدیه حصه پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحه 230-231) تو فرمایاافلح کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ نے ان لغو کاموں کو چھوڑنے سے پورا کرنا ہے لیکن جیسے کہ پہلے بھی بتایا ہے یہ کامیابی کا ایک حصہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ہے، ایک درجہ ہے کہ لغو کام جب انسان چھوڑتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اپنے بندے سے کچھ تعلق جوڑتا ہے اس کے تعلق میں بھی کچھ اضافہ ہوتا ہے اور پھر ایمان میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ایک دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں کہ: ”ایسے مومن کو خدا تعالیٰ کی طرف کچھ رجوع تو ہو جاتا ہے مگر اس رجوع کے ساتھ لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغوشغلوں کی پلیدی لگی رہتی ہے جس سے وہ انس اور محبت رکھتا ہے۔ہاں کبھی نماز میں خشوع کے حالات بھی اس سے ظہور میں آتے ہیں لیکن دوسری طرف لغو حرکات بھی اس کے لازم حال رہتی ہیں اور لغو تعلقات اور لغو مجلسیں اور لغو ہنسی ٹھٹھا اس کے گلے کا ہار بنارہتا ہے گویاوہ دورنگ رکھتا ہے کبھی کچھ کبھی کچھے“۔66 ( ضمیمه براهین احمدیه حصه پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحه (235) تو دیکھیں یہاں آپ نے فرمایا کہ یہ لغویات جن سے تعلقات ہیں تمہارے گلے کا ہار بن رہے ہوتے ہیں۔یہاں جلسوں پر آتے ہیں خطبہ جمعہ سنتے ہیں، نمازوں میں کبھی کبھی بڑا ذوق شوق بھی پیدا ہو جاتا ہے لیکن یہ جو لغو تعلقات ہیں یہ تمہارے گلے کا ہار بنے ہوئے ہیں۔ان مجلسوں، اجتماعوں اور نمازوں کے بعد تمہارے دل پر جو اثر ہوتا ہے اس کی وجہ سے تم نیکیوں کے راستے اختیار کرنا چاہتے ہو۔لیکن یہ جو لغو تعلقات ہیں، یہ فضول قسم کے جو لوگ ہیں اور فضول قسم کے لوگوں کی جو دوستیاں ہیں یہ تمہیں پھر واپس انہیں راستوں پر ڈال دیتی ہیں۔جلسوں کے بعد اجتماعوں کے بعد، جمعہ کے بعد دل پر بعض دفعہ بڑا گہرا اثر ہوتا ہے اور انسان ارادہ کرتا ہے کہ اب میں نے نیکی کی طرف