خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 556
$2004 556 مسرور ایک روایت میں آتا ہے کہ ” جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو خیر و برکت عطا کرنا چاہے تو ان کی عمریں بڑھا دیتا ہے اور انہیں شکر بجالا نا سکھا دیتا ہے۔(کنزالعمال جلد 2 صفحه 53 ) تو دیکھیں اس شکر گزاری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی عمروں میں بھی برکت دیتا ہے۔کیونکہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس نیکی کو شکر گزاری کی اعلیٰ صفت کو آگے پھیلا رہے ہوتے ہیں اور لوگ ان سے فیض بھی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔تو لوگوں میں فیض پہنچانے والوں کی عمروں میں بھی برکت ہوتی ہے۔حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اس قدر لمبا قیام فرماتے تھے (اب دیکھیں اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کس طرح کی جاتی ہے ) کہ اس کی وجہ سے آپ کے پاؤں سو جایا کرتے تھے۔اس پر ( کہتی ہیں کہ ) میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ کے سارے گناہ بخشے گئے ہیں۔پہلے کے بھی اور بعد کے بھی تو آپ کیوں اتنا لمبا قیام فرماتے ہیں۔آپ نے فرمایا کیا میں خدا کا عبد شکور نہ بنوں۔جس نے مجھے پہ اتنا احسان کیا ہے کیا میں اس کا شکر ادا کرنے کے لئے نہ کھڑا ہوا کروں“۔(بخاری کتاب التفسير سورة الفتح باب قوله ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك پس جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کر آیا ہوں کہ عبد شکور بننے کی کوشش کرنی چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کو دیکھنے کے بعد تو ہمیں بہت زیادہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننے کی کوشش کرنی چاہئے اور ہر احمدی کو اپنی عبادات میں ایک خاص ذوق پیدا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور شکر گزاری کے جذبات کے ساتھ جھکنا چاہئے اور اس زمانے میں تو خاص طور پر جب دنیا میں ہر طرف افرا تفری پڑی ہوئی ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک جماعت میں ایک لڑی میں پرویا ہوا ہے اس پر ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے اور اس کے عبادت گزار بندے بنے کی کوشش کریں۔اس شکر گزاری کے جذبے کے تحت جس کے اظہار کا ہمیں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے میں بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے تمام ان مہمانوں کا بھی شکر یہ ادا کرتا ہوں