خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 532
$2004 532 خطبات مسرور حقائق بھی پتہ چلتے رہتے تھے لیکن اب بھی جو ارشادات آپ نے بیان فرمائے انہیں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ، انہیں کو سمجھتے ہوئے، انہیں تفسیروں پر عمل کرتے ہوئے ماشاء اللہ علماء بڑی تیاری کر کے جہاں جہاں بھی دنیا میں جلسے ہوتے ہیں اپنی تقاریر کرتے ہیں، خطابات کرتے ہیں اور یہ باتیں بتاتے ہیں۔تو آج بھی ان جلسوں کی اس اہمیت کو سامنے رکھنا چاہئے۔وہی اہمیت آج بھی ہے اور تقاریر جب ہو رہی ہوں تو ان کے دوران تقاریر کو خاموشی سے سننا چاہئے۔پھر آپ نے فرمایا کہ شامل ہونے والوں کے لئے دعائیں کرنے کی بھی توفیق ملتی ہے۔تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائیں آج بھی شاملین جلسہ کے لئے برکت کا باعث ہیں کیونکہ آپ نے اپنے ماننے والوں کے لئے جو نیکیوں پر قائم ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی سچی محبت دل میں رکھتے ہیں ، قیامت تک کے لئے دعائیں کی ہیں۔پھر یہاں آکر ایک دوسرے کی دعاؤں سے بھی حصہ لیتے ہیں۔ضمنی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ایک دوسرے کی پہچان ہو جاتی ہے، حالات کا پتہ لگ جاتا ہے۔اب تو دنیا یوں اکٹھی ہو گئی ہے، فاصلے اتنے کم ہو گئے ہیں کہ تمام دنیا کے لوگ کم از کم نمائندگی کی صورت میں یہاں اکٹھے ہو جاتے ہیں جس سے ایک دوسرے کے حالات کا پتہ چلتا ہے، ان کے لئے دعائیں کرنے کی توفیق ملتی ہے۔پھر آپس میں اس طرح گھلنے ملنے سے، اکٹھے ہونے سے محبت واخوت بھی قائم ہوتی ہے۔آپس میں تعلق اور پیار بھی بڑھتا ہے اور بعض دفعہ حقیقی رشتہ داریاں بھی قائم ہو جاتی ہیں کیونکہ بہت سے تعلق پیدا ہوتے ہیں۔رشتہ ناطے کے بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔اور اس سے جماعت میں جو مضبوطی پیدا ہونی چاہئے وہ پیدا ہوتی ہے اور اجنبیت بھی دور ہوتی ہے۔ایک دوسرے کے لئے بغض و کینے کم ہوتے ہیں اور جب ایسی باتوں کا، آپس میں لوگوں کی رنجشوں کا پتہ لگتا ہے تو ان کے لئے پھر دعائیں کرنے کا بھی موقع ملتا ہے۔اور پھر جو دوران سال وفات پاگئے ہیں ان کی مغفرت کے لئے بھی دعا کرنے کا موقع ملتا ہے۔جیسا کہ