خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 510 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 510

$2004 510 خطبات مسرور بغیر اجر کے نہیں چھوڑتا۔تو چاہے اس جہان میں اجر دے، چاہے اگلے جہان میں رکھے، جو نیکیاں ہیں ان کا تو دونوں جہانوں میں اجر ملتا ہے۔لیکن بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کے زندگی میں ہی ایسے سلوک ہو جاتے ہیں جو فوری طور پر ظاہر ہو جاتے ہیں۔اور اس کے فضل نظر آ رہے ہوتے ہیں جس سے احساس ہوتا ہے کہ شاید یہ فضل فلاں وجہ سے ہوا ہے۔اور جب کبھی ایسا موقعہ ہو تو ایسے موقعوں پر اللہ تعالیٰ کے حضور اور جھکنا چاہئے۔کسی قسم کی بڑائی دل میں نہیں آنی چاہئے بلکہ عاجزی میں ترقی ہونی چاہئے۔عبدالله بن طُهْفَه رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کثرت سے مہمان آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ ہر کوئی اپنا مہمان لیتا جائے۔ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت زیادہ مہمان آ گئے۔اور آپ نے فرمایا کہ ہر کوئی اپنے حصے کا مہمان ساتھ لے جائے۔عبداللہ بن طفقہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان میں سے تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے تھے۔چنانچہ جب آپ گھر پہنچے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: کیا گھر میں کھانے کو کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! حریرہ نامی کھانا ہے جو میں نے آپ کے افطار کے لئے تیار کیا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ آپ وہ کھانا ایک برتن میں ڈال کر لائیں۔اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑا سا کھایا اور پھر فرمایا بسم اللہ پڑھ کر کھا ئیں اور مہمانوں کو دے دیا۔چنانچہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کھانے میں سے اس طرح کھایا کہ ہم اسے دیکھ نہیں رہے تھے۔اس کے بعد آنحضرت نے فرمایا اے عائشہ! کیا تمہارے پاس پینے کو کوئی چیز ہے۔انہوں نے کہا : جی ہاں حریرہ ہے جو میں نے آپ کے لئے تیار کیا ہے۔فرمایا کہ لے آؤ تو وہ لے آئیں۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ برتن لے کے اپنے منہ کو لگایا ، اس میں سے تھوڑا سا لیا اور پھر مہمانوں کو دے دیا کہ بسم اللہ کر کے پینا شروع کریں۔پھر کہتے ہیں کہ ہم بھی اسے اسی طرح پینے لگے کہ ہم اسے دیکھ نہیں رہے تھے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر وہ سونے کے لئے مسجد میں چلے گئے اور پھر کہتے ہیں صبح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور لوگوں کو الصَّلوۃ الصلوۃ کہہ کر لوگوں کو بیدار کرنے لگے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب