خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 388 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 388

$2004 388 خطبات مسرور راستے کو نہ دیکھا ہو۔جس شخص کو بھی آپ نصیحت کر رہے ہوں وہ کہے گا پہلے اپنے آپ کو تو سنبھالو، اپنے گھر کی خبر لو، مجھے تم کہ رہے ہو کہ ایک خدا کی عبادت کرو اور خود تمہارا یہ حال ہے کہ نمازوں کے اوقات میں مجلسیں لگا کر بیٹھے رہتے ہو یا اپنے دنیاوی دھندوں میں مشغول رہتے ہو، اللہ تعالیٰ کا حکم جو تم مجھے بتا رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرو، اس کا خیال رکھو اور تمہاری بیوی کا یہ حال ہے کہ دوسرے گھروں میں بتاتی پھرتی ہے کہ تم انتہائی ظالم خاوند ہو۔اس پر دست درازی کرتے ہو، اس کو مارتے پیٹتے ہو۔تم ایک ظالم سر ہو، اپنی بہو پہ بھی ہاتھ اٹھانے سے دریغ نہیں کرتے۔وہ تمہیں کہے گا جس کو بھی تبلیغ کر رہے ہو کہ اپنی بیوی کو بھی سمجھا ؤ ، اپنے گھر کی بھی خبر لو کہ وہ بھی ان احکامات پر عمل کرے اور اپنی بہو سے حسن سلوک کرے۔تم خود تو پہلے اپنے ہمسایوں کے حقوق ادا کر وہ تمہارے ہمسائے تو تم سے تنگ آئے پڑے ہیں۔تم خود تو اپنے ماں باپ کے حقوق ادا کرو۔تمہارے ماں باپ تو تم سے سخت نالاں ہیں، ناراض ہیں کہ تم بڑھاپے میں ان سے بد تمیزی سے پیش آتے ہو۔تم اپنے کاروباری ساتھی کو جو دھوکہ دے رہے ہو پہلے اس سے تو معاملہ صاف کرو۔تم اپنے افسروں اور ماتحتوں کے جو حقوق دبائے بیٹھے ہو پہلے وہ تو ادا کرو۔جو زیر تبلیغ ہے پہلے یہ ہی کہے گا اگر اس کو آپ کا علم ہے کہ جب تم اپنے اندرسب تبدیلیاں پیدا کر لو گے تو پھر مجھے نصیحت کرنا ، مجھے بھی اپنی جماعت کی خوبیاں بیان کرنا، مجھے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا۔ورنہ تم خود اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق ، قرآن کی تعلیم کے مطابق گنہگار ہو، مجھے کیا راستہ دکھاؤ گے۔پس استغفار کا مقام ہے، بہت زیادہ استغفار کا مقام ہے۔جو کوتاہیاں اور غلطیاں ہم سے ہو چکی ہیں ان کی اللہ سے معافی مانگیں۔اس کے سامنے جھکیں یہ عہد کریں کہ ہم سے جو ظلم ہوئے ان سے محض اور محض رحم فرماتے ہوئے صرف نظر فرما اور آئندہ ہمیں توفیق دے کہ ہم تیرے حقوق ادا کرنے والے بھی ہوں اور ہم تیرے بندوں کے حقوق ادا کرنے والے بھی ہوں اور جو کام تو نے