خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 338 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 338

$2004 338 خطبات مسرور زمانہ، یعنی دونوں زمانے شان و شوکت والے ہوں گے۔اس آخری زمانے کی بھی وضاحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرما دی کہ وہ کیا ہے۔حضرت ابو ہریرہ ا روایت کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ آپ پر سورۃ جمعہ نازل ہوئی جب آپ نے اس کی آیت وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ پڑھی جس کے معنے یہ ہیں کہ کچھ بعد میں آنے والے لوگ بھی ان صحابہ میں شامل ہوں گے جو ابھی ان کے ساتھ نہیں ملے۔تو ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! یہ کون لوگ ہیں جو درجہ تو صحابہ کا رکھتے ہیں لیکن ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے۔تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کا جواب نہ دیا۔اس آدمی نے تین دفعہ یہ سوال دو ہرایا۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی ہم میں بیٹھے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے کندھے پر رکھا اور فرمایا کہ اگر ایمان ثریا کے پاس بھی پہنچ گیا یعنی زمین سے اٹھ گیا تو ان لوگوں میں سے کچھ لوگ واپس لے آئیں گے۔یعنی آخرین سے مراد وہ زمانہ ہے جب مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور اس پر ایمان لانے والے، اس کا قرب پانے والے، اس کی صحبت پانے والے صحابہ کا درجہ رکھیں گے۔پس جب ہم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور یہ زمانہ پانے کی توفیق عطا فرمائی جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کا درجہ دیا ہے۔تو یہ بھی ضروری تھا کہ اس پیشگوئی کے مطابق خلافت علی منہاج نبوت بھی قائم رہے۔یہاں یہ وضاحت کر دی ہے جیسا کہ پہلے حدیث کی روشنی ) میں میں نے کہا کہ مسیح موعود کی خلافت عارضی نہیں ہے بلکہ یہ دائمی خلافت ہوگی۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے الفاظ میں اس آیت کی کچھ وضاحت کرتا ہوں ، آپ فرماتے ہیں:۔اللہ تعالیٰ دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ