خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 29

$2004 29 مسرور ایک روایت میں آتا ہے، عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: الشُّح یعنی بخل سے بچو! یہ بخل ہی ہے جس نے پہلی ( قوموں) کو ہلاک کیا۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۱۹۱ مطبوعه بیروت) الحمد للہ ! کہ آج جماعت میں ایسے لاکھوں افراد مل جاتے ہیں جو بخل تو علیحدہ بات ہے اپنے اوپر تنگی وارد کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہیں۔اور بخل کو کبھی بھی اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: میں یقین سمجھتا ہوں کہ بخل اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔جوشخص سچے دل سے خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے وہ اپنا مال صرف اس مال کو نہیں سمجھتا جو اس کے صندوق میں بند ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے تمام خزائن کو اپنے خزائن سمجھتا ہے اور امساک اس سے دُور ہو جاتا ہے ( یعنی کنجوسی اس سے دور ہو جاتی ہے جیسا کہ روشنی سے تاریکی دور ہو جاتی ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۴۹۸) پھر فرمایا : ” قوم کو چاہئے کہ ہر طرح سے اس سلسلہ کی خدمت بجالا وے۔مالی طرح پر بھی خدمت کی بجا آوری میں کوتاہی نہیں چاہئے۔دیکھو دنیا میں کوئی سلسلہ بغیر چندہ کے نہیں چلتا۔رسول الله کریم حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی سب رسولوں کے وقت چندے جمع کئے گئے۔پس ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی اس امر کا خیال ضروری ہے۔اگر یہ لوگ التزام سے ایک ایک پیسہ بھی سال بھر میں دیویں تو بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ہاں اگر کوئی ایک پیسہ بھی نہیں دیتا تو اُسے جماعت میں رہنے کی کیا ضرورت ہے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ ۱۳۵۸ احکام، اجولائی ۱۹۰۳ء) ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صدقہ کرنے کا ارشاد فرماتے تو ہم میں سے کوئی بازار کو جاتا اور وہاں محنت مزدوری کرتا اور اسے اجرت کے طور پر ایک مد ( اناج وغیرہ) ملتا تو وہ اس میں سے صدقہ