خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 330
$2004 330 خطبات مسرور جاتی ہے۔جب ایسی حالت ہو جائے تو اس کا علاج یہ ہے کہ کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور پھر درود شریف بہت پڑھے۔نماز بھی بار بار پڑھے۔قبض کے دور ہونے کا یہی علاج ہے“۔(ملفوظات جلد اول صفحه ١٩٤ ـ الحكم جلد نمبر ۷ نمبر ۲۱) فرمایا کہ یہ روحانی تبدیلی اپنے اندر پیدا کرنی ہے، پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرنی ہے تو مستقل مزاجی سے استغفار کرتے رہنا پڑے گا۔نمازوں کی طرف توجہ ہونی چاہئے ، نمازیں پڑھو، استغفار کرو تو اللہ تعالیٰ ایک وقت ایسا لائے گا کہ انسان اپنے اندر تبدیلی محسوس کرے گا۔پھر ایک موقع پر آپ نے کسی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ: ” نماز اور استغفار دل کی غفلت کے عمدہ علاج ہیں نماز میں دعا کرنی چاہئے کہ اے اللہ! مجھ میں اور میرے گناہوں میں دوری ڈال۔صدق سے انسان دعا کرتارہے تو یہ یقینی بات ہے کہ کسی وقت منظور ہو جائے جلدی کرنی اچھی نہیں ہوتی۔زمیندار ایک کھیت ہوتا ہے تو اسی وقت نہیں کاٹ لیتا۔بے صبری کرنے والا بے نصیب ہوتا ہے۔نیک انسان کی یہ علامت ہے کہ وہ بے صبری نہیں کرتا۔بے صبری کرنے والے بڑے بڑے بد نصیب دیکھے گئے ہیں۔اگر ایک انسان کنواں کھودے اور ہمیں ہاتھ کھو دے اور ایک ہاتھ رہ جائے تو اس وقت بے صبری سے چھوڑ دے تو اپنی ساری محنت کو برباد کرتا ہے اور اگر صبر سے ایک ہاتھ اور بھی کھود لے تو گوہر مقصود پالیوے۔یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ ذوق اور شوق اور معرفت کی نعمت ہمیشہ دکھ کے بعد دیا کرتا ہے۔اگر ہر ایک نعمت آسانی سے مل جائے تو اس کی قدر نہیں ہوا کرتی “۔(ملفوظات جلد دوم صفحه ۲۵۵ - البدر ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ء) پھر آپ نے فرمایا کہ: میں تمہیں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ جولوگ قبل از نزول بلا دعا کرتے ہیں اور استغفار کرتے اور صدقات دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرتا ہے۔اور عذاب الہی سے ان کو بچالیتا ہے۔میری ان باتوں کو قصہ کے طور پر نہ سنو میں نَصْحالِلہ کہتا ہوں اپنے حالات پر غور کرو اور آپ بھی اور اپنے دوستوں کو بھی دعا میں لگ جانے کے لئے کہو استغفار عذاب الہی اور مصائب