خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 307
$2004 307 خطبات مسرور پھر رہے ہوتے ہیں تو دونوں فریقین کو سوچنا چاہئے۔کہ کیا احمدی بن کر، اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل کرنے کے بعد کیا یہ معیار ہیں جو ہمارے ہونے چاہئیں یا دنیا سے بے رغبتی۔مال کا ہونا کوئی جرم نہیں لیکن اس کی ہوس اور حرص اور ہر وقت اس میں ڈوبے رہنا، یہ چیز منع ہے۔اگر ہمارے میں سے ہر ایک غور سے یہ سوچنا شروع کر دے تو احمدیوں کے تو جھگڑے ختم ہو جائیں جائیدادوں اور مالی امور کے۔پھر ایک روایت میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ دنیا کی آخرت کے مقابلے میں اتنی کی حیثیت ہے جتنی کہ تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے پھر اسے نکال کر دیکھے کہ اس کے ساتھ کتنا پانی لگا ہوا ہے۔(ترمذی۔کتاب الزھد باب ماجاء في هوان الدنيا على الله) یہ دنیا کی حیثیت ہے۔اس دنیا میں ہم جو ہر چیز تلاش کرتے پھرتے ہیں اور آخرت کے متعلق سوچتے بھی نہیں اگر مقابلہ کرنا ہوتو دیکھیں آخرت میں جو جزا یا سزاملنی ہے یہ اتنی وسیع ہے کہ اس کے لئے آدمی کو ہر وقت فکر رہنی چاہئے۔جبکہ دنیا جس کی حیثیت ہی کوئی نہیں ایک قطرہ پانی کے برابر بھی حیثیت نہیں سمندر کے مقابلے میں، اس کے پیچھے ہم دوڑتے رہتے ہیں۔حضرت عمرو بن عاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم بھیجا یعنی حضرت عمر و بن عاص کو یہ کہا کہ اپنے ہتھیار لے کر اور زرہ پہن کر میرے پاس آؤ۔تو کہتے ہیں جب میں مسلح ہو کر آپ کے پاس حاضر ہوا تو اس وقت آپ وضوفر مار ہے تھے۔آپ نے مجھے فرمایا کہ میں نے تمہیں اس غرض کے لئے بلایا ہے کہ میں تمہیں ایک جنگی مہم پر بھیجنا چاہتا ہوں اس مہم سے تمہیں اللہ تعالی بخیریت واپس لائے گا اور مال غنیمت دے گا۔اور میں تمہیں مال کی ایک مقدار بطور انعام دوں گا۔تو کہتے ہیں کہ میں نے اس پر کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے مال حاصل کرنے کے لئے ہجرت نہیں کی تھی۔میری ہجرت تو صرف خدا اور اس کے رسول کے لئے ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ