خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 26

$2004 26 خطبات مسرور طریقے ہیں کہ جو اچھا مال بھی تم اس کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا لوٹائے گا۔بلکہ دوسری جگہ فرمایا کہ کئی گنا بڑھا کر لوٹایا جائے گا۔تم سمجھتے ہو کہ پتہ نہیں اس کا بدلہ ملے بھی کہ نہ ملے۔فرمایا اس کا بدلہ تمہیں ضرور ملے گا بلکہ اس وقت ملے گا جب تمہیں اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہوگی ہم اس کے سب سے زیاہ محتاج ہو گے۔اس لئے یہ وہم دل سے نکال دو کہ تم پر کوئی ظلم ہوگا۔ہرگز ہر گز تم پر کوئی ظلم نہیں ہو گا۔لوگ دنیا میں رقم رکھنے سے ڈرتے ہیں۔بینک میں بھی رکھتے ہیں تو اس سوچ میں پڑے رہتے ہیں کہ بینکوں کی پالیسی بدل نہ جائے۔منافع بھی میرا کم نہ ہو جائے۔اور بڑی بڑی رقوم ہیں۔کہیں یہ تحقیق شروع نہ ہو جائے کہ رقم آئی کہاں سے۔اور فکر اور خوف اس لئے دامن گیر رہتا ہے، اس لئے ہر وقت فکر رہتی ہے کہ یہ جو رقم ہوتی ہے دنیا داروں کی صاف ستھری رقم نہیں ہوتی ، پاک رقم نہیں ہوتی بلکہ اکثر اس میں یہی ہوتا ہے کہ غلط طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔گھروں میں رکھتے ہیں تو فکر کہ کوئی چور چوری نہ کر لے، ڈاکہ نہ پڑ جائے۔پھر بعض لوگ سود پر قرض دینے والے ہیں۔کئی سو روپے سود پر قرض دے رہے ہوتے ہیں۔لیکن چھین پھر بھی نہیں ہوتا۔سندھ میں ایک ایسے ہی شخص کے بارہ میں مجھے کسی نے بتایا کہ غریب اور بھو کے لوگوں کو جو قحط سالی ہوتی ہے۔لوگ بیچارے آتے ہیں اپنے ساتھ زیور وغیرہ ، سونا وغیرہ لاتے ہیں، ایسے سود خوروں سے رقم لے لیتے ہیں، اپنے کھانے پینے کا انتظام کرنے کے لئے اور اس پر سود پھر اس حد تک زیادہ ہوتا ہے کہ وہ قرض واپس ہی نہیں کر سکتے۔کیونکہ سودا تا ر نا ہی مشکل ہوتا ہے، سود در سود چڑھ رہا ہوتا ہے۔تو اس طرح وہ سونا جو ہے یا زیور جو ہے وہ اس قرض دینے والے کی ملکیت بنتا چلا جاتا ہے۔تو ایک ایسا ہی سود خور تھا اور فکر یہ تھی کہ میں نے بینک میں بھی نہیں رکھنا۔تو اپنے گھر میں ہی ، اپنے کمرے میں ایک گڑھا کھود کے وہیں اپنا سیف رکھ کے تجوری میں سارا کچھ رکھا کرتا تھا۔اور چالیس پچاس کلو تک اس کے پاس سونا اکٹھا ہو گیا تھا۔اور اس کے اوپر اپنا پلنگ بچھا کر سویا کرتا تھا، خطرے کے پیش نظر کہ کوئی لے ہی نہ