خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 279 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 279

$2004 279 خطبات مسرور سوچ ہے اور یہ سوچ بڑی کثرت سے پائی جاتی ہے کہ لڑکے پیدا ہوں اور باپ کی طرح دنیا داری کے کاموں میں باپ کے ساتھ کام کریں۔پھر جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ مال ہو، ڈھیروں ڈھیر مال کی خواہش ہو اور جتنا مال آتا ہے اتنی زیادہ حرص بڑھتی چلی جاتی ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ جس ذریعے سے بھی مال حاصل ہو سکتا ہے کیا جائے۔دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کر کے بھی زمینیں بنائی جا سکیں تو بنائی جائیں، دوسروں کے پلاٹوں پر بھی قبضہ کیا جائے ، کاروبار پھیلایا جائے ، کارخانے لگائے جائیں ، سواریوں کے لئے کاریں خریدی جائیں، ایک گاڑی کی ضرورت ہے تو تین تین چار چار گاڑیاں رکھی جائیں اور پھر ہر نئے ماڈل کی کا ر خرید نا فرض سمجھا جاتا ہے۔تو فرمایا کہ یہ سب دنیوی زندگی کے عارضی سامان ہیں ایک مومن کی یہ شان نہیں ہے کہ ان عارضی سامانوں کے پیچھے پھرتا رہے۔دنیا کے پیچھے پھر نا تو کافروں کا کام ہے، غیر مومنوں کا کام ہے، تمہارا نطمح نظر تو اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کی عبادت اور اس کی مخلوق کی خدمت ہونا چاہئے۔لیکن بدقسمتی سے اس خوبصورت اور پا کیز تعلیم کے باوجود مسلمانوں نے دنیا کو ہی طرح نظر بنا لیا ہے اور حرص اور ہوس انتہا تک پہنچ چکی ہے۔دجال کے دجل کی ایک یہ بھی تدبیر تھی جس سے مقصد مسلمانوں کو دین سے پیچھے ہٹانا تھا اور اس میں وہ کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔اور قناعت اور سادگی کو بھلا دیا گیا ہے اور ہوا و ہوس کی طرف زیادہ رغبت ہے اور امیر سے امیر تر بننے کی دوڑ لگی ہے۔پس ان حالات میں خاص طور پر احمدیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ہر طبقہ کے احمدی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ قناعت اور سادگی کو اپنائیں۔تو دین کی خدمت کے مواقع بھی میسر آئیں گے ، دین کی خاطر مالی قربانی کی بھی توفیق ملے گی، اپنے ضرورت مند بھائیوں کی خدمت کی بھی توفیق ملے گی ، ان کی خدمت کر کے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی بھی توفیق ملے گی اور دنیا کے کاموں میں فنا ہونے سے بچ کر اللہ تعالیٰ کی عبادات بجالانے کی بھی توفیق ملے گی۔اور آخر کو انسان نے اللہ تعالیٰ کے حضور ہی حاضر ہونا ہے ، اسی طرح زندگی چلتی ہے۔ایک دن اس دنیا کو چھوڑ نا