خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 272 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 272

$2004 272 خطبات مسرور گیا ہے کہ لمبے لمبے ناخن رکھو اور ان کو کوئی گندگی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔بہر حال یہ سب پر واضح ہو جانا چاہئے کہ ناخن کٹوانے کا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اور لمبے ناخن رکھنے کا نقصان ہی ہے فائدہ کوئی نہیں۔صفائی کے ضمن میں ایک انتہائی ضروری بات جو جماعتی طور پر ضروری ہے وہ ہے جماعتی عمارات کے ماحول کو صاف رکھنا۔اس کا پہلے میں ذکر کر چکا ہوں۔اس کا با قاعدہ انتظام ہونا چاہئے۔اور خدام الاحمدیہ کو وقار عمل بھی کرنا چاہئے۔اور اگر عمارت کے اندر کا حصہ ہے تولجنہ کو بھی اس میں حصہ لینا چاہئے۔اور اس میں سب سے اہم عمارات مساجد ہیں مساجد کے ماحول کو بھی پھولوں، کیاریوں اور سبزے سے خوبصورت رکھنا چاہئے ، خوبصورت بنانا چاہئے۔اور اس کے ساتھ ہی مسجد کے اندر کی صفائی کا بھی خاص اہتمام ہونا چاہئے۔چند سال پہلے حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے بڑا تفصیلی خطبہ اس ضمن میں دیا تھا اور توجہ دلائی تھی۔کچھ عرصہ تک تو اس پر عمل ہوا لیکن پھر آہستہ آہستہ اس پر توجہ کم ہوگئی۔خاص طور پر پاکستان اور ہندوستان میں مسجد کے اندر ہال کی صفائی کا بھی با قاعدہ انتظام ہو۔تنکوں کی وہاں صفیں بچھی ہوتی ہیں۔صفیں اٹھا کر صفائی کی جائے ، وہاں دیواروں پر جالے بڑی جلدی لگ جاتے ہیں، جالوں کی صفائی کی جائے۔پنکھوں وغیرہ پر مٹی نظر آ رہی ہوتی ہے وہ صاف ہونے چاہئیں۔غرض جب آدمی مسجد کے اندر جائے تو انتہائی صفائی کا احساس ہونا چاہئے کہ ایسی جگہ آ گیا ہے جو دوسری جگہوں سے مختلف ہے اور منفرد ہے۔اور جن مساجد میں قالین وغیرہ بچے ہوئے ہیں وہاں بھی صفائی کا خیال رکھنا چاہئے۔لمبا عرصہ اگر صفائی نہ کریں تو قالین میں بو آنے لگ جاتی ہے، مٹی چلی جاتی ہے۔خاص طور پر جمعے کے دن تو بہر حال صفائی ہونی چاہئے۔اور پھر حدیثوں میں آیا ہے کہ دھونی وغیرہ دے کر ہوا کو بھی صاف رکھنا چاہئے اس کا بھی باقاعدہ انتظام ہونا چاہئے۔لیکن مسجد میں خوشبو کے لئے بعض لوگ اگر بتیاں جلا لیتے ہیں۔