خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 264 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 264

$2004 264 خطبات مسرور اب، کہ جو بھی چھوٹے چھوٹے آگے پیچھے صحن ہوتے ہیں ان کی کیاریوں میں یا گھاس ہوتا ہے یا گند پڑا ہوتا ہے۔کوئی توجہ یہاں بھی اکثر گھروں میں نہیں ہو رہی ، چھوٹے چھوٹے صحن ہیں کیا ریاں ہیں، چھوٹے سے گھاس کے لان ہیں اگر ذراسی محنت کریں اور ہفتے میں ایک دن بھی دیں تو اپنے گھروں کے ماحول کو خوبصورت کر سکتے ہیں۔جس سے ہمسایوں کے ماحول پر بھی خوشگوار اثر ہوگا اور آپ کے ماحول میں بھی خوشگوار اثر ہو گا۔اور پھر آپ کو لوگ کہیں گے کہ ہاں یہ لوگ ذرا منفر دطبیعت کے لوگ ہیں، عام جوایشینز (Asians) کے خلاف ایک خیال اور تصور گندگی کا پایا جاتا ہے وہ دُور ہوگا۔مقامی لوگوں میں کچھ نہ کچھ پھر بھی شوق ہے وہ اپنے پودوں کی طرف توجہ دیتے ہیں جبکہ ہمارے گھر کا ماحول ان لوگوں سے زیادہ صاف ستھرا اور خوشگوار نظر آنا چاہئے اور یہاں تو موسم بھی ایسا ہے کہ ذراسی محنت سے کافی خوبصورتی پیدا کی جاسکتی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاص طور پر سڑکوں کی صفائی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر سڑک پر جھاڑیاں یا پتھر اور کوئی گندی چیز ہو بلکہ آپ کا عمل یہ تھا کہ اگر کوئی گندی چیز ہوتی تو آپ اسے خود اٹھا کر ایک طرف کر دیتے اور فرماتے کہ جو شخص سڑکوں کی صفائی کا خیال رکھتا ہے خدا اس پر خوش ہوتا ہے اور اسے ثواب عطا کرتا ہے۔(مسلم۔کتاب البر و الصلة) اور یہاں تو گھر بھی اتنے چھوٹے چھوٹے ہیں کہ سڑکوں پر آئے ہوتے ہیں اس لئے جتنا آپ اپنے چھوٹے سے صحن کو صاف رکھیں گے، سڑک کی صفائی بھی اس میں نظر آئے گی۔اسی طرح آپ فرماتے تھے کہ رستے کو روکنا نہیں چاہئے ، رستوں پر بیٹھنا یا اس میں ایسی چیز ڈال دینا کہ مسافروں کو تکلیف ہو یا رستہ میں قضائے حاجت وغیرہ کرنا یہ خدا تعالیٰ کو نا پسند ہے۔(مشکواۃ۔کتاب الطهارة) اسی طرح بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ سڑک یا فٹ پاتھ پر تھوک دیتے ہیں جو بڑا کراہت والا منظر ہوتا ہے تو اگر ایسی کوئی ضرورت ہو بھی تو ایسے لوگوں کو چاہئے کہ ایک طرف ہو کر