خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 256 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 256

$2004 256 خطبات مسرور نے آسمان پر ارادہ کیا ہے اگر کبھی پہلے بھی حق کے مخالفوں کو ان طریقوں سے کامیابی ہوئی ہے تو وہ کامیاب ہو جائیں گے۔لیکن اگر یہ ثابت شدہ امر ہے کہ خدا کے مخالف اور اس کے ارادہ کے مخالف جو آسمان پر کیا گیا وہ ہمیشہ ذلت اور شکست اٹھاتے ہیں تو پھر ان لوگوں کے لئے بھی ایک دن ناکامی اور نامرادی اور رسوائی در پیش ہے، خدا کا فرمودہ کبھی خطا نہیں گیا اور نہ جائے گا۔وہ فرماتا ہے گھب اللهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی یعنی خدا نے ابتداء سے لکھ چھوڑا ہے اور اپنے قانون اور اپنی سنت قرار دے دیا ہے کہ وہ اور اس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے۔پس چونکہ میں اس کا رسول اور فرستادہ ہوں مگر بغیر کسی نئی شریعت، نئے دعوے اور نئے نام کے بلکہ اسی نبی کریم، خاتم الانبیاء کے نام پا کر اور اسی میں ہوکر اور اس کا مظہر بن کر آیا ہوں اس لئے میں کہتا ہوں جیسا کہ قدیم سے یعنی آدم کے زمانے سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک ہمیشہ مفہوم اس آیت کا سچا نکلتا چلا آیا ہے۔ایسا ہی اب بھی میرے حق میں سچا نکلے گا۔کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ جس زمانے میں ان مولویوں اور ان کے چیلوں نے میرے پر تکذیب اور بد زبانی کے حملے شروع کئے تھے اس زمانے میں میری بیعت میں ایک آدمی بھی نہیں تھا گو چند دوست جو انگلیوں پر شمار ہو سکتے ہیں میرے ساتھ تھے اور اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے 70 ہزار کے قریب بیعت کرنے والوں کا شمار پہنچ گیا ہے۔( جب حضور نے یہ لکھا اور اب ایک ایک دن میں کئی کئی ہزار بیعتیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہیں ) جو نہ میری کوشش ہے بلکہ اس ہوا کی تحریک سے ہوا جو آسمان سے چلی ہے میری طرف دوڑے ہیں اب لوگ خود سوچ لیں کہ اس سلسلہ کے برباد کرنے کے لئے کس قدر انہوں نے زور لگائے اور کیا کچھ ہزار جان کا ہی کے ساتھ ہر ایک قسم کے مکر کئے یہاں تک کہ حکام تک جھوٹی مخبریاں بھی کیں۔خون کے جھوٹے مقدموں کے گواہ بن کر عدالتوں میں گئے اور تمام مسلمانوں کو میرے پر ایک عام جوش دلایا اور ہزارہا اشتہار اور رسائل لکھے کفر کے فتوے میری نسبت دیئے اور مخالفانہ منصوبوں کے لئے کمیٹیاں کیں مگر ان تمام کوششوں کا نتیجہ بجز نامرادی کے اور کیا ہوا۔پس اگر یہ کاروبارانسان کا ہوتا تو ضرور ان کی جان توڑ کوششوں سے یہ تمام سلسلہ تباہ ہو جاتا۔کیا کوئی نظیر دے سکتا ہے کہ اس قدر کوششیں کسی جھوٹے کی نسبت کی گئیں اور وہ تباہ نہ ہوا بلکہ پہلے سے ہزار چند ترقی کر گیا پس کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں