خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 182 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 182

$2004 182 خطبات مسرور کا ہوتا ہے اور کام کی ساری ذمہ واری بھی ان لوگوں کی ہوتی ہے۔اور اس دوسرے شخص کو گھر بیٹھے صرف منافع مل رہا ہوتا ہے ایسے ہوشیار لوگوں کو بھی کچھ خوف خدا کرنا چاہئے کہ لوگوں کو اس طرح بیوقوف نہ بنایا کریں، اگر کوئی باتوں میں آکے بیوقوف بن گیا ہے یہ ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو ہے جو دیکھ رہی ہے۔اس کو تو خبر ہے تمہارے دل میں کیا ہے تو کبھی بھی ایسے تقوی سے عاری معاہدے نہیں کرنے چاہئیں کیونکہ جب بھی تم نے ایسا معاہدہ کیا تو ایسا معاہدہ کرنے والا جس نے کسی ایسے شخص کا جس کو پوری طرح تجر بہ نہیں ہے رقم دلوائی اور ضائع کروائی اس نے بہر حال عدل و انصاف کا خون کیا۔اور بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کا یہ پیسہ بھی لوٹ لیتے ہیں اور اس کے بعد جب ان لوگوں کو سمجھایا جائے کہ یہ تم نے غلط کام کیا ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے ایسے معاہدے بھی نہیں ہونے چاہئیں تقویٰ کو مد نظر رکھ کر ایسے معاہدے کیا کرو تو جواب ان کا یہ ہوتا ہے کہ دیکھو جی ! اس نے اپنی خوشی سے دستخط کئے تھے ہم نے کون سا اس پر پستول رکھ کر اس سے منوایا تھا۔یہ بہت قابل شرم حرکت ہے، ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔لیکن جو دوسرے لوگ اس طرح کی بے وقوفی میں پیسہ ضائع کر رہے ہوتے ہیں ان کو بھی اپنا سرمایہ سوچ سمجھ کر لگانا چاہئے۔مشورہ کر کے، دعا کر کے سمجھ کے، کچھ فائدہ بھی ہوگا کہ نہیں بلا وجہ بیوقوف نہیں بن جانا چاہئے مومن کو کچھ تو فر است دکھانی چاہئے۔بعض لوگ قرض لے لیتے ہیں اور واپسی کے وقت بہانے بنارہے ہوتے ہیں۔ان کو بھی خوف خدا کرنا چاہئے۔ایک حدیث میں روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن ابی حدر دالاسلمی بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی کا ان کے ذمے چار درہم قرض تھا جس کی میعاد ختم ہوگئی ، اس یہودی نے آ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ اس شخص کے ذمے میرے چار درہم ہیں اور یہ مجھے ادا نہیں کرتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ سے کہا کہ اس یہودی کا حق دے دو، عبداللہ نے عرض کی کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مجھے قرض ادا کرنے کی طاقت نہیں ہے۔آپ نے دوبارہ فرمایا اس کا حق اسے لوٹا دو، عبداللہ نے پھر وہی عذر کیا اور کہا کہ میں نے اسے