خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 118
$2004 118 مسرور انسان کی پیدائش میں دو قسم کے حُسن ہیں۔ایک حُسن معاملہ اور وہ یہ کہ انسان خدا تعالیٰ کی تمام امانتوں اور عہد کے ادا کرنے میں یہ رعایت رکھے کہ کوئی امر حتی الوسع ان کے متعلق فوت نہ ہو۔جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں رائوں کا لفظ اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔ایسا ہی لازم ہے کہ انسان مخلوق کی امانتوں اور عہد کی نسبت بھی یہی لحاظ رکھے یعنی حقوق اللہ اور حقوق عباد میں تقویٰ سے کام لے۔یہ حسن معاملہ ہے یا یوں کہو کہ روحانی خوبصورتی ہے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۲۱۸) پھر آپ نے فرمایا کہ: ہر مومن کا یہی حال ہوتا ہے۔اگر وہ اخلاص اور وفاداری سے اُس کا ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کا ولی بنتا ہے لیکن اگر ایمان کی عمارت بوسیدہ ہے تو پھر بے شک خطرہ ہوتا ہے۔ہم کسی کے دل کا حال تو جانتے ہی نہیں۔سینہ کا علم تو خدا کو ہی ہے مگر انسان اپنی خیانت سے پکڑا جاتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ سے معاملہ صاف نہیں تو پھر بیعت فائدہ دے گی نہ کچھ اور۔لیکن جب خالص خدا ہی کا ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اُس کی خاص حفاظت کرتا ہے۔اگر چہ وہ سب کا خدا ہے مگر جو اپنے آپ کو خاص کرتے ہیں اُن پر خاص تجلی کرتا ہے اور خدا کے لئے خاص ہونا یہی ہے کہ نفس بالکل چکنا چور ہوکر اُس کا کوئی ریزہ باقی نہ رہ جائے۔اس لئے میں بار بار اپنی جماعت کو کہتا ہوں کہ بیعت پر ہرگز ناز نہ کرو اگر دل پاک نہیں ہے۔ہاتھ پر ہاتھ رکھنا کیا فائدہ دے گا جب دل دُور ہے۔جب دل اور زبان میں اتفاق نہیں تو میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر منافقانہ اقرار کرتے ہیں۔تو یا درکھو ایسے شخص کو دو ہر اعذاب ہوگا مگر جو سچا اقرار کرتا ہے اُس کے بڑے بڑے گناہ بخشے جاتے ہیں اور اس کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔(ملفوظات جلد دوم صفحه ٦٥ الحكم ١٤ فروری ١٩٠٣ء اللہ تعالیٰ ہم سب کو امانتوں کو نیک نیتی سے ادا کرنے اور ہرقسم کی خیانت سے بچنے کی تو فیق عطا فرماتا رہے۔