خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 111 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 111

$2004 111 خطبات مسرور دار بھی شامل ہو جاتے ہیں جو ایک دوسرے پر ذاتی قسم کے الزامات لگا رہے ہوتے ہیں۔جن کو سن کر بھی شرم آتی ہے۔اب میاں بیوی کے تعلقات تو ایسے ہیں جن میں بعض پوشیدہ باتیں بھی ظاہر ہو جاتی ہیں۔تو جھگڑا ہونے کے بعد ان کو باہر یا اپنے عزیزوں میں بیان کرنا صرف اس لئے کہ دوسرے فریق کو بدنام کیا جائے تا کہ اس کا دوسری جگہ رشتہ نہ ہو۔تو فرمایا کہ اگر ایسی حرکتیں کرو گے تو یہ بہت بڑی بے حیائی اور خیانت شمار ہوگی اور خائن کے بارہ میں انذار آئے ہیں کہ ایک تو خائن مومن نہیں ، مسلمان نہیں اور پھر جہنمی بھی ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی عورت سے شادی کے لئے مہر مقرر کیا اور نیت کی کہ وہ اسے نہیں دے گا تو وہ زانی ہے اور جس کسی نے قرض اس نیت سے لیا کہ ادا نہ کرے گا تو میں اسے چور شمار کرتا ہوں۔( مجمع الزوائد جلد ٤ صفحه ۱۳۱ كتاب البيوع باب فيمن نوى ان لا يقضى دينه) اب دیکھیں حق مہر ادا کرنا مرد کے لئے کتنا ضروری ہے۔اگر نیت میں فتور ہے تو یہ خیانت ہے، چوری ہے۔پھر بعض لوگ قرض لے لیتے ہیں۔اور بعض لوگ تو عادی قرض لینے والے ہوتے ہیں۔پتہ ہوتا ہے کہ ہمارے وسائل اتنے نہیں کہ ہم یہ قرض واپس کر سکیں۔لیکن پھر بھی قرض لیتے چلے جاتے ہیں کہ جب کوئی پوچھے گا کہہ دیں گے کے ہمارے پاس تو وسائل ہی نہیں ، ہم تو دے ہی نہیں سکتے۔اپنے اخراجات پر کنٹرول ہی کوئی نہیں ہوتا۔جتنی چادر ہے اتنا پاؤں نہیں پھیلاتے اصل میں نیت یہی ہوتی ہے پہلے ہی کہ ہم نے کون سا دینا ہے۔بے شرموں کی طرح جواب دے دیں گے۔یہاں جو قرض دینے والے ہیں ان کو بھی بتادوں کہ بجائے اس کے کہ بعد میں جھگڑے ہوں اور امور عامہ میں اور جماعت میں اور خلیفہ وقت کے پاس کیس بھجوائیں کہ ہمارے پیسے دلوائیں تو پہلے ہی سوچ سمجھ کر ، جائزہ لے کر ایسے لوگوں کو قرض دیا کریں۔یا تو اس نیت سے دیں کہ ٹھیک ہے اگر نہ بھی واپس ملا تو کوئی حرج نہیں۔یا پھر اچھی طرح جائزہ لے لیا کریں کہ اس کی اتنی استعداد بھی