خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 101
$2004 101 خطبات مسرور سے اور نہ نا پاک خیال سے۔بلکہ ہمیں چاہئے کہ ان کے سننے اور دیکھنے سے نفرت رکھیں جیسا کہ مردار سے، تا ٹھوکر نہ کھاویں۔کیونکہ ضرور ہے کہ بے قیدی کی نظروں سے کسی وقت ٹھوکر میں پیش آویں۔سو چونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری آنکھیں اور دل اور ہمارے خطرات سب پاک رہیں اس لئے اس نے یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم فرمائی۔اس میں کیا شک ہے کہ بے قیدی ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ٣٤٣-٣٤٤) پھر فرمایا: خدا تعالیٰ نے چاہا کہ انسانی قوی کو پوشیدہ کاروائیوں کا موقع بھی نہ ملے اور ایسی کوئی بھی تکلیف پیش نہ آئے جس سے بد خطرات جنبش کر سکیں۔پھر آپ عورتوں کے لئے پر دے کے بارہ میں فرماتے ہیں: شرعی پردہ یہ ہے کہ چادر کو حلقہ کے طور پر کر کے اپنے سر کے بالوں کو کچھ حصہ پیشانی اور زنخدان کے ساتھ بالکل ڈھانک لیں اور ہر ایک زینت کا مقام ڈھانک لیں۔مثلاً منہ پر اردگر داس طرح پر چادر ہو کہ صرف آنکھیں اور ناک تھوڑ اسانگا ہو اور باقی اس پر چادر آ جائے۔اس قسم کے پردہ کو انگلستان کی عورتیں آسانی سے برداشت کر سکتی ہیں اور اس طرح پر سیر کرنے میں کچھ حرج نہیں آنکھیں کھلی رہتی ہیں۔(ریویو آف ریلیجنز جلد ٤ نمبر ۱ صفحه ۱۷ ـ ماه جنوری ۱۰۵ ١٩٠٥ء۔بحواله تفسیر حضرت مسیح موعود۔رد عليه السلام جلد سوم صفحه ٤٤٦) تو آج کل جو برقعے کا رواج ہے ،کوٹ کا اور نقاب کا، اگر وہ صحیح طور پر ہو، ساتھ چپکا ہوا برقعہ یا کوٹ نہ ہو تو بڑا اچھا پر دہ ہے۔اس سے ہاتھ بھی کھلے رہتے ہیں، آنکھیں بھی کھلی رہتی ہیں، سانس بھی آتارہتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : وہ جس کی زندگی ناپاکی اور گندے گناہوں سے ملوث ہے وہ ہمیشہ خوفزدہ رہتا ہے اور مقابلہ نہیں کر سکتا۔ایک صادق انسان کی طرح دلیری اور جرات سے اپنی صداقت کا اظہار نہیں کر سکتا اور اپنی پاک دامنی کا ثبوت نہیں دے سکتا۔دنیوی معاملات میں ہی غور کر کے دیکھ لو کہ کون ہے