خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 95 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 95

$2004 95 خطبات مسرور ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا گھر آبا د ر کھے ، نیک اور صالح اولا د بھی عطا فرمائے۔پھر یہ کہ وہ دونوں دین کے خادم ہوں اور ان کی نسلیں بھی دین کی خادم ہوں۔پھر یہ ہے کہ دونوں فریق جو شادی کے رشتے میں منسلک ہوئے ہیں، ان کے لئے یہ دعائیں بھی کرنی چاہئیں کہ وہ اپنے والدین کے اور اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے والے بھی ہوں۔تو احمدی تو اسی طرح شادی کرتے ہیں اگر کسی کو اس پر اعتراض ہے تو ہوتا رہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہمیں یہی حکم ہے کہ خوشیاں بھی مناؤ تو سادگی سے مناؤ اور اللہ کی رضا کو ہمیشہ پیش نظر رکھو۔کیونکہ ہماری کامیابی کا انحصار اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور اس کی طرف جھکنے میں ہی ہے۔اس لئے ہم تو اسی طرح شادیاں مناتے ہیں۔اور جو غیر بھی ہماری شادیوں میں شامل ہوتے ہیں وہ اچھا اثر لے کر جاتے ہیں۔اب چند احادیث پیش کرتا ہوں۔ابوریحانہ روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ایک رات انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ”آگ اس آنکھ پر حرام ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں بیدار رہی۔اور آگ اس آنکھ پر حرام ہے جو اللہ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے آنسو بہاتی ہے،،۔پھر اس روایت میں یہ بھی ہے کہ آگ اس آنکھ پر بھی حرام ہے جو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کو دیکھنے کی بجائے جھک جاتی ہے۔اور اس آنکھ پر بھی حرام ہے جو اللہ عزوجل کی راہ میں پھوڑ دی گئی ہو۔(سنن دارمی، کتاب الجهاد، باب فى الذى يسهر في سبيل الله حارسا) تو دیکھیں غض بصر کا کتنا بڑا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اس کی راہ میں جہاد کرنے والوں ، شہید ہونے والوں یا دوسرے لفظوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے والی آنکھ کا رتبہ ایسے لوگوں کو حاصل ہو رہا ہے جو اس حکم پر عمل کرتے ہوئے، ہمیشہ عبادت بجالانے والے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں گے۔حضرت ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: