خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 51
خطبات مسرور 51 $2003 ایک دفعہ ایک ہندو صاحب قادیان میں میرے پاس آئے جن کا نام یاد نہیں رہا۔اور کہا کہ میں ایک مذہبی جلسہ کرنا چاہتا ہوں۔آپ بھی اپنے مذہب کی خوبیوں کے متعلق کچھ مضمون لکھیں تا اس جلسہ میں پڑھا جائے۔میں نے عذر کیا پر اس نے بہت اصرار سے کہا کہ آپ ضرور لکھیں۔چونکہ میں جانتا ہوں کہ میں اپنی ذاتی طاقت سے کچھ بھی نہیں کر سکتا بلکہ مجھ میں کوئی طاقت نہیں۔میں بغیر خدا کے بلائے بول نہیں سکتا اور بغیر اس کے دکھانے کے کچھ دیکھ نہیں سکتا اس لئے میں نے جناب الہی میں دعا کی کہ وہ مجھے ایسے مضمون کا القا کرے جو اس مجمع کی تمام تقریروں پر غالب رہے۔میں نے دعا کے بعد دیکھا کہ ایک قوت میرے اندر پھونک دی گئی ہے۔میں نے اس آسمانی قوت کی ایک حرکت اپنے اندر محسوس کی اور میرے دوست جو اس وقت حاضر تھے جانتے ہیں کہ میں نے اس مضمون کا کوئی مسودہ نہیں لکھا۔جو کچھ لکھا صرف قلم برداشتہ لکھا تھا اور ایسی تیزی اور جلدی سے میں لکھتا جا تا کہ نقل کرنے والے کے لئے مشکل ہوگیا کہ اس قد رجلدی اس کی نقل لکھے۔جب میں مضمون ختم کر چکا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ مضمون بالا رہا۔فرماتے ہیں : خلاصہ کلام یہ کہ جب وہ مضمون اس مجمع میں پڑھا گیا تو اس کے پڑھنے کے وقت سامعین کے لئے ایک عالم وجد تھا۔اور ہر ایک طرف سے تحسین کی آواز تھی۔یہاں تک کہ ایک ہندو صاحب جو صدرنشین اس مجمع کے تھے ان کے منہ سے بھی بے اختیار نکل گیا کہ یہ مضمون تمام مضامین سے بالا رہا۔اور سول اینڈ ملٹری گزٹ جولاہور سے انگریزی میں ایک اخبار نکلتا ہے اس نے بھی شہادت کے طور پر شائع کیا کہ یہ مضمون بالا رہا۔اور شاید ہمیں کے قریب ایسے اردو اخبار بھی ہوں گے جنہوں نے یہ شہادت دی۔(حقيقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۹۱-۲۹۲ پھر پنجاب آبزور ایک انگریزی کا اخبار ہے اس کی بھی گواہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ بباعث مرض ذیا بیطیس جو قریباً بیس سال سے مجھے دامنگیر ہے آنکھوں کی بصارت کی نسبت بہت اندیشہ ہوا کیونکہ ایسے امراض میں نزول الماء کا سخت خطرہ ہوتا ہے۔تب خدا تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے مجھے اپنی اس وحی سے تسلی اور اطمینان اور سکینت بخشی اور وہ وحی یہ ہے نَزَلَتِ الرَّحْمَةُ عَلَى ثَلَثٍ اَلْعَيْنُ وَعَلَى